logo-mini

رحمت اللعالمیٰن ﷺ کے پاس غیب کا علم تھا یا نہیں

رحمت اللعالمیٰن ﷺ کے پاس غیب کا علم تھا یا نہیں

قرآن سارا غیب کی خبریں ہی ہیں، غیب کا علم خود سے کسی پیغمبر کے پاس نہیں تھا، جتنا اﷲ نے چاہا جب چاہا عطا فرمایا، خود سے غیب کا علم کسی کے پاس بھی نہ تھا، لیکن اﷲ تعالٰی نے انسان کو پیدا کیا تو علوم عطا فرمائے اب وہ علوم کیا تھے، کتنے تھے، کس قسم کے تھے، اس کا علم اﷲ کو ہے، اصحابِ الکہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوالات پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کل بتادوں گا لیکن ان شاء اﷲ دل میں آنے کے باوجود بھی زبان سے نہ۔ادا کیا، تو کچھ دن وحی نہ آنے پر پریشان رہے، پھر وحی میں فرمایا گیا کہ آئندہ نہ کہنا کہ کل کردوں گا مگر ان شاء اﷲ
غیب کا علم ہونے یا نہ ہونے سے میرے آقا رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کمی نہیں آسکتی
تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے جانے والے آقا ﷺ سے عظیم تر نہ کوئی انسان ہے، نہ کوئی فرشتہ، شان بھی کتنی ہے، کوئی نہیں جانتا، ابھی یہ راز روز حشر عیاں ہوں گے، غیب اور اختلافات کی بحث کے ذریعے اپنے آقا ﷺ کی مشقتوں اور محنتوں میں کمی لانے کی کوشش نہ کیا کریں پلیز
جس مقام محمود پر اﷲ تعالٰی نے آپ ﷺ کو پہنچانے کا وعدہ کیا، اس مقام تک کسی اور کی رسائی ممکن نہیں، جو ذکر اور جیسا ذکر آپ ﷺ کا بلند فرمایا ورفعنالک ذکرک وہ بھی کسی اور کو عطا نہیں فرمایا، تمام انبیاء علیہم السلام کے سردار کا لقب عطا ہوا، ہر پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے، رسالت کی گواہی دی، دین اسلام کو اﷲ تعالٰی نے واحد دین کہا، ہر پیغمبر نے اسی کی تعلیم دی، حتیٰ کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی ایک امتی محمد ﷺ بننے کی خواہش کی خاطر اپنی باقی زندگی التوا رکھوالی،
اور اﷲ تعالٰی نے حضرت محمد ﷺ سے وہ وعدہ خوشی عطا فرمانے کا وعدہ بھی کیا جس سے آپ ﷺ راضی ہو جائیں گے، ان شاء اﷲ، حوض کوثر عطا فرما دی، ہر پیغمبر ایک قوم پر مبعوث فرمائے گئے، لیکن حضرت محمد ﷺ کو نجانے کتنے جہان ہیں وہ ﷲ تعالٰی جانے، تمام جہانوں کے لئے رحمت، رسول اور سردار بناکر مبعوث فرمایا، وہ رحمت قیامت تک قائم رہے گی، پھر روز حشر سب سے زیادہ ظاہر ہوگی، پھر آپ ﷺ سجدہ میں مغفرت مانگتے رہیں گے جب تک کہ اﷲ اٹھا کر وہ من پسند خوشی عطا نہ فرما دیں گے، ہر پیغمبر نے اپنی دعا اپنے لئے مانگ لی، حضرت ابراہیم و اسمعیل علیہ السلام پر بھی قربان جاؤں اپنی آل میں سے خاتم الانبیاء کے پیدا ہونے کی دعا مانگ لی، اور اپنے آل و اہل مکہ کے لئے شادابی و خوشحالی بھی لیکن میرے آقائے نامدار ﷺ نے اپنی وہ دعا بھی رکھ دی امت کی خاطر، روز حشر میں مانگنے کے لئے، امتیوں پر آنے موت و سکرات کی تکلیف کو بھی اپنی جان پر سہہ لیا، شب معراج شریف پر سات سو مرتبہ میں سے ایک مرتبہ بھی اپنے یا اپنے عزاء و اقارب کے لئے کچھ نہ مانگا، ہر بار صرف امت
میری قلم میں تو جسارت بھی نہیں جو بیان کرسکے شان سید الانبیاء ﷺ جیسی عظیم ہستی ﷺ کے احسانات کا بدلہ میں ہزار جانیں قربان کرکے بھی نہیں دے سکتی کبھی، ایک آنسو کا بھی قرض نہیں اتار سکتی کبھی، کاش تھوڑا سا ہی سہی اتار پاؤں
یہ طریقہ غلط ہے، دین کے ٹھیکیدار نہ بنے کوئی، عاجزی اور ایمانداری سے پہنچا دینا ہم سب پر فرض ہے، پھر چاہے وہ علم ہو یا ہنر
حتیٰ کہ کسی کو دین کی طرف مائل دیکھیں، تو شروعات میں اس کو ٹوکنا بھی غلط ہے، قدم بہ قدم اس کو سکھایا جائے وہ بھی بہت محبت، نرمی اور حوصلہ افزائی کے ساتھ

اﷲ تعالٰی ہمی سب کو راہِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمیٰن یارب اللعالمیٰن

مطلوبِ دعا آسیہ روبی

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply