logo-mini

نیکی کا بدلہ

نیکی کا بدلہ

ﺍﻟﺴَّــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـﻜُﻢ وﺭَﺣﻤَﺔُ اﷲ ﻭَﺑَﺮَﻛـَﺎﺗُﻪ

اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ملتے ہیں کہ

نیکی کا زمانہ نہیں رہا

قرضہ دے کر دشمن بنالو

اعتبار کرکے دھوکہ کھالو

تو سنیں حضرات آج نہیں شروع سے ہی حضرت انسان کا یہی عالم ہے،

یہ ناشکرا بھی ہے، جھگڑالو بھی سب سے بڑا ہے

کم ظرف بھی ہے

لیکن یاد رکھیں کہ

اشرف المخلوقات بھی یہی انسان ہے

فرشتوں سے بلند مقام یہی انسان ہے

اگر برے انسان موجود ہیں تو اچھے بھی موجود ہیں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ خود اچھے بن جائیں، جس قسم ہے انسان کی آپ کو کمی محسوس ہورہی ہے وہ آپ اپنی ذات کے ذریعے اس معاشرے کو فراہم کردیں

انسان کی تخلیق کا مقصد بندوں کو بندوں کا احساس اور درد سکھانا ہے، آسانیاں تقسیم کریں اپنی منفی سوچوں سے دوسروں کی زندگی کو اجیرن نہ کریں

لیکن آپ تو الٹا دوسروں کو بھی بدظن کر رہے ہیں

منفی تاثرات پھیلا کر قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

” نیکی اور بدی برابر نہ ہو جائیں گی ، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹالو جبھی وہ کہ تم میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہو جائے گا جیسے کہ گہرے دوست ”

پھر ایک اور جگہ فرمایا

“جو اﷲ تعالیٰ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس ١۰ گنا اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا”

ہم بتائیں ﷲ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں اور آپ سب کیا کہتے ہیں؟

مسلمان ہوکر کیسا ایمان ہے ہمارا کہ قرآن مجید سے مخالف بیان دیتے پھرتے ہیں؟

اجر کی بات کرتے ہیں ہم حساب کرتے ہیں تو ذرا ﷲ تعالیٰ کا ہمارے لئے حساب تو دیکھیں

یہ بھی کس قدر بڑا ہم انسانوں پر احسان ہے کہ نیکی کا اجر دس گنا زیادہ جبکہ گناہ کا اتنا ہی یا اکثر گناہ تو معاف فرما دئیے جاتے ہیں

جن نیکیوں کا اﷲ تعالیٰ نے اور ہمارے آقا رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم و درس دیا ہے،

ان کے خلاف جا کر، ان کے خلاف ترغیب دے کر؟

آپ کو بھی اﷲ تعالیٰ نے اور اﷲ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے پہلے ہی بتادیا ہے ان سب نیکیوں کو اور زندگی کو جینے کا سلیقہ، دوسروں کے ساتھ ڈیل کرنے کا سلیقہ ، آپ کو فرائض سونپے ہیں تو حقوق بھی عطا فرمادئیے ہیں، اپنی ذات پر بھی ظلم کرنے سے منع فرما دیا ہے

کسی سے بدگمانی نہ کرنے کا حکم دے کر قرض یا کوئی بھی لین دین کے معاملے کے وقت ڈاکومنٹس تیار کرنے اور گواہ کرنے کا بھی حکم دے دیا

معیاد مقرر کرلیں، کوئی زیادہ ضرورت مند ہو تو مہلت دے دیں، یا معاف کردیں، اس کے بدلے اگلے جہاں میں تو وہ ملے گا ہی اس جہاں میں بھی اﷲ تعالیٰ آپ کو کہیں دوسری جگہ سے عطا فرما دیتا ہے

نیکی اﷲ تعالیٰ کی رضا و حکم سمجھ کر کرنے کو کہا

تو جب آپ نے کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کی رضا و حکم اور اﷲ تعالیٰ کی ہی عطا کردہ توفیق سے ہی کیا ہے تو رونا دھونا کس بات پر مچا رکھا ہے؟ دین نے پہلے سے ہی بتا دیا ہے کہ

نیکی کر کے دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہونے دیں

کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلے یا بھلائی کی امید نہ رکھیں

کوئی ذمہ داری نبھانے کی سعادت بھی اﷲ تعالیٰ ہر کسی کو نہیں دیتا، اپنے بندوں کی مدد اﷲ تعالیٰ ڈائریکٹ خود بھی کرسکتا ہے آپ کے ذریعے کیوں کسی کی مدد کروائی؟

آپ کو کیوں سعادت بخشی؟

شعور کو استعمال کریں

دھوکہ نہ ملنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں لیکن دھوکہ ملنے پر بھی شکر ادا کریں کہ آپ نے دھوکہ دیا نہیں کھایا ہے، اس سے سبق سیکھیں آگے بڑھیں، اس کو اپنے اندر کچرا بنا کر معاشرے میں بدبو نہ پھیلائیں پلیز

ہم اس دنیا میں مسافر ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ کسی جگہ آپ مہمان بن کر جائیں یا راستے میں کسی سے ملاقات ہو تو آپ کی کوشش ہوتی ہے نا کہ اپنا اچھا تاثر چھوڑ جائیں؟

اس دنیا سے بھی نجانے ہم کب رخصت ہوجائیں، تو کوشش کریں کہ اپنے پیچھے خوشبو والی یادیں چھوڑ جائیں

مانتی ہوں کہ بعض اوقات جب نیکی کے بدلے برائی ملتی ہے تو دل بہت دکھتا ہے، کہ میں نے تو اس کے ساتھ نیکی کی تھی، احسان کیا تھا پھر اس نے میرے ساتھ کیوں برا کیا؟

لیکن اگر اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو دکھ کی بجائے خوشی ہوگی یا پھر دکھ قدرے کم ہو جائے گا

کہ نیکی اﷲ تعالیٰ کی رضا کی خاطِر کرنی چاہیے

نیکی کا اجر اﷲ تعالیٰ سے ملتا ہے بندوں سے نہیں

نیکی یا احسان کو اہم نہ سمجھیں، بلکہ عاجزی و شکر محسوس کریں، کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اس قابل کیا کہ

کسی کی ضرورت یا حاجت پوری کر پائے یا مدد کر سکے،

دل میں احسان سمجھ کر نہ کیا جائے، نہ ہی جتایا جائے

یاد رکھیں کہ

اﷲ تعالیٰ ہماری کچھ نیکیوں کے ذریعے ہمیں آزماتا ہے کہ برائی ملنے کے بعد ہم اپنی نیکی کو اتنا اہم تو نہیں جانتے؟ اور آئندہ نیکی کرنے سے رک تو نہیں جاتے
نیکی کا بدلہ انسان سے چاہنا، نیکی کا سودا کرنا ہوا، جو انسان ﷲ تعالیٰ کی اس قدر احسان فراموشی کرتا رہتا ہے وہ کسی انسان کو کیسے بدلہ دے سکتا ہے، ہاں یہ اپنی فطرت پر منحصر ہے، اعلیٰ ظرف، احسان ماننے والے، شکر کرنے والے ذرا سا بھی کسی کا احسان یا نیکی بھولتے نہیں، چاہے اس کا بدلہ دے بھی دیں
اسی طرح کم ظرف، ناشکرا احسان فراموش ہوتا ہے،

اگر کسی کے برے سلوک نے آپ کو دکھی کیا ہے تو اس کو دل سے نکال دیں، دل میں رکھیں گے تو کچرا بنے گا اور آپ کی ذات کو اور آپ سے منسلک لوگوں کو تکلیف اور پرابلمز دے گا تو پلیز کسی کی بات بری لگے ۔۔۔تو مطمئن رہیں

سب سے پہلی بات کہ

آپ اپنی نیکی کرکے یکسر بھول جائیں کہ اﷲ تعالیٰ سب جانتا ہے آپ کی ذرا سی بھی نیکی لکھ لی گئی ہے
تو آپ کسی انسان کی بری فطرت کے باعث اپنی اچھی فطرت سے ہاتھ نہ روکیں، کہ
جن کی فطرت میں نیکی کرنا ہو وہ نیکی ہی کیا کرتے ہیں اور اجر ﷲ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے ہیں
دوسرا
اگر آپ کو نیکی کے بدلے برائی ملی ہے تو خوش ہوجائیں کہ وہ ﷲ تعالیٰ کو پسند آگئی ہے اور اس کا اجر وہ خود دینا چاہتا ہے
تیسرا
ان کا اجر اﷲ تعالیٰ ہمیں اگلی دنیا میں دینا چاہتا ہے، تو اس دنیا میں اجر ملے نہ ملے اتنا فرق نہیں پڑتا، جب ہم یہ سوچنے لگ جائیں تو ہمیں دکھ کی بجائے خوشی ہوگی
آخری بات
دھوکہ یا برائی ملنے پر سوچیں کہ ہر کام منجانب اﷲ تعالیٰ ہے، اور ہماری غلطی اس میں شامل تھی، آئندہ سے اس قسم کی صورتحال کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں لیکن اس قسم کی نیکی کرنے سے احتراز نہ کریں، لیکن غمناک بھی نہ ہوں

اﷲ تعالیٰ ہمیں اعمال صالحہ اور آسانیاں بانٹنے کی سعادت و توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین یارب العالمین۔۔ آسیہ روبی

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
Man jaa bialhasanati falahu AAashru amthaliha waman jaa bialssayyiati fala yujza illa mithlaha wahum la yuthlamoona
جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
For one who brings one good deed, are ten like it; and one who brings an ill-deed will not be repaid but with one like it, and they will not be wronged.
(6 : 160)
وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌۭ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌۭ
Wala tastawee alhasanatu wala alssayyiatu idfaAA biallatee hiya ahsanu faitha allathee baynaka wabaynahu AAadawatun kaannahu waliyyun hameemun
اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست
And the good deed and the evil deed will never be equal; O listener! Repel the evil deed with a good one, thereupon the one between whom and you was enmity, will become like a close friend.
(41 : 34)
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ
Faisbir AAala ma yaqooloona wasabbih bihamdi rabbika qabla tulooAAi alshshamsi waqabla ghuroobiha wamin anai allayli fasabbih waatrafa alnnahari laAAallaka tarda
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), patiently forbear upon their speech, and praising your Lord proclaim His Purity, before the sun rises and before it sets; and proclaim His Purity at some times of the night and at the two ends of the day, in the hope that you be pleased. (*With the great reward from your Lord)
(20 : 130)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply