logo-mini

مخلص و سچے انسان کا سمجھانا

اَلسَلامُ و عَلَيكُم وَرحمَةُ اﷲ وَبَرَكاتُہ
میں بول رہی ہوں آسیہ روبی
اس چینل کے ذریعے میں اپنی نالج کے تحت موٹیویٹ کرنے اور اپنے تجربات اور ٹپس شئیر کرنے کی کوشش کرتی ہوں

آئیں آج ہم سورہ الکھف میں درج حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے پر بات کریں کہ اس واقعہ کے ذریعےہمیں یہ چند باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں مثلاً
کسی بھی ہنر یا کام میں اپنے آپ کو مکمل یا سب سے بہتر نہ سمجھیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو براہ راست اﷲ سے کلام کرنے اور سیکھنے کے باوجود بھی ان سے زیادہ علم اﷲ تعالیٰ نے کسی دوسرے انسان یعنی حضرت خضر علیہ السلام کو عطا فرما رکھا تھا
کبھی بھی کچھ غلط ہوتے دیکھ کر اپنے مفاد کی خاطر یا جھگڑے کے ڈر سے خاموش نہ رہیں
جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اتنا طویل سفر طے کرکے جس مقصد کی خاطر گئے تھے وہ مقصد اور بار بار خاموش رہنے پر پابند کرنا بھی ان کو کچھ غلط ہوتا دیکھ کر خاموش رہنے پر مجبور نہ کر سکا اور یہ بات حضرت خضر علیہ السلام بھی جانتے تھے کہ ایک مخلص اور سچا انسان کسی بھی حال میں نہ خاموش رہ سکتا ہے، نہ ہی اپنے مفاد کو عزیز رکھ سکتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام تو پھر اﷲ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں،جن کی ذمہ داری ہی یہی ہے تو کچھ برا یا غلط ہوتے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہوگا، وہ لازم ٹوکیں گے، جتنا مرضی پابند کردو،
کیونکہ وہ اپنی جگہ ٹھیک تھے اور موسیٰ علیہ السلام اپنی جگہ، کیونکہ ان کو اس وقت تک علم نہیں تھا کہ حضرت خضر علیہ السلام اُن معاملات کی گہرائی کا علم رکھنے کی وجہ سے اُن کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
اس سے یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ اپنے نظریے پر اتنا اٹل نہ رہیں دوسرے کا نظریہ بھی جان لیں ہو سکتا ہے وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہو، ایک دوسرے کو کہنے اور سننے کا موقع ضرور دیں وہ بھی تحمل مزاجی اور اچھے اخلاق کے ساتھ
کسی کو بھی ایک عمل یا کوئی بات دیکھ یا سن کر یا ظاہری حلیے کی وجہ سے غلط نہ سمجھیں، ہوسکتا ہے حقیقت اسکے برعکس ہو۔
علم سیکھنے کی خاطر جتنا مرضی سفر طے کرنا پڑے یا مشکل اٹھانی پڑے سیکھنے کی کوشش کرتے رہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ براہ راست بھی وہ علم یا حضرت خضر علیہ السلام کی اصلیت بتا سکتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کی درخواست اﷲ تعالیٰ سے نہ کی، بلکہ آخری حد تک جدوجہد کرتے رہے۔
اس واقعے سے اگر ہم سب خاص طور پر دین کے ٹھیکیدار یہ تمام باتیں سیکھ کر ان پر عمل کرنا شروع کردیں تو یقیناً تمام اختلافات بھلا کر دین کے ٹھیکیدار کی بجائے دین کے امانتدار بن جائیں
کیونکہ آج جہاں بھی دیکھیں دوسروں پر تنقید اور اختلافات پر ہی بات کی جاتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیکر سب کو ہی نرمی و تدبر سے سمجھانے کا حکم دیا چاہے پھر وہ فرعون جتنا سرکش و برا انسان اور خدائی کا دعویدار کافر ہی کیوں نہ ہو
اور دونوں فریقین یا دواشخاص کے درمیان یکساں باتوں پر بات کرنے کو کہا، تاکہ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان سکیں پھر جو غلط لگے وہ آخر میں نرم لہجے اور بہترین الفاظ و تدبر سے سمجھائی جائیں۔
اﷲ تعالٰی ہم سب کو متحد و یکجا ہوکر اپنی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

اگر آپ کو میری یہ کاوش پسند آئی ہو تو اس چینل کو سبسکرائب کرکے نیچے دیئے گئے بیل آئیکون کو دبادیں اور اس ویڈیو کے متعلق بھی اپنی رائے ضرور دیں ۔ شکریہ

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply