logo-mini

حکایات

اصفہان کا ایک مشہور رئیس اپنی زوجہ کہ ھمراہ دستر خوان پر تشریف فرما تھا اور کھانا تناول فرما رھا تھا ساتھ میں دونوں میاں بیوی خوش گپیاں بھی لگا رھے تھے. اس دوران دروازے پر دستک ھوئی تو چوب دار نے کہا عالی جاہ کو فقیر ھے جو کھانے کاسوال کر رھا ھے. رئیس

شرابی:۔ “جناب! مجھے بتائیں کہ اگر میں کھجوریں کھاؤں تو آپ کو کوئی اعتراض ہے…؟ عالم:۔ “بالکل کوئی اعتراض نہیں”… شرابی:۔ ” اگر اس کے ساتھ کچھ جڑی بوٹیاں کھا لوں؟ عالم:۔ ” کوئی رکاوٹ نہیں”…. شرابی:۔ “اور اگر میں ان میں پانی شامل کر لوں؟ عالم:۔ “بڑے شوق سے پیو”…. شرابی:۔ “جب یہ ساری

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر کوایک دن ’’میرے غلام‘‘ کہہ کر مخاطب کیا‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی قریش مکہ‘ معزز ترین باپ اور امیرالمومنین حضرت عمر بن الخطاب کے صاحب زادے تھے‘ ان کو یہ بات حد درجہ ناگوار ہوئی‘ فوراً

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا.. چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم

کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل

کہتے ہیں کسی جگہ ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے۔ اس شخص نے اپنے ان تینوں بیٹوں کے نام “ حجر” رکھے ہوئے تھے۔ دن گزرتے رہے حتیٰ کہ اسے مرض الموت نے آن لیا۔ اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلا کر وصیت کی کہ حجر کو وراثت ملے گی، حجر

آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں حجاب کس کو کہتے ہیں تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے ۔۔۔اچھا یہ بتاو تم کیک بہت اچھا بناتی ہو کبھی اسے بیک کر کے کھلا چھوڑ کہ دیکھنا کہ کس قدر مکھیوں کا جھمگٹا اس پر چمٹا ہوگا ۔۔۔!! قصور کس کا

السلام علیکم یہ ایک انگلش پیج پر پڑھا اس کا ترجمہ کر رہی ہوں ایک عورت کا ہینڈ بیگ چوری ہوا اس ہینڈ بیگ میں اس کے کریڈٹ کارڈز،موبائل اور بٹوہ سب کچھ تھا۔ بیس منٹ بعد اس نے کہیں سے انتظام کر کے اپنے شوہر کر فون کر کے داستان سنائی کہ بیگ چوری

یہ ایک مشہور جرمن فلاسفر کے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ ہے جو اپنے ہمسائے کے مرغے کے شور و غل سے بہت تنگ تھا۔ جب بھی یہ مرغا شور مچاتا اس کی ساری سوچیں درہم برہم ہو کر رہ جاتیں اور اس کے تحقیقی کاموں میں خلل پڑتا۔ ایک دن جب اس فلسفی

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺷﺨﺺ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺍﮐﻠﻮﺗﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﻄﺮﯼ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﺯ ﻭ ﻧﻌﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻼ ﮨﻮﺍ , ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻨﺮ , ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﺗﺠﺮﺑﮧ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮐﺎﻡ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ

“بیٹی” بیٹیاں ایک ایسی نعمت ہیں جو ماں باپ کی الجھنوں، پریشانیوں کو اپنی ننہی مسکراہٹوں سے ، اپنی معصومانہ باتوں سے راحت میں بدل دیتی ہیں ۔۔۔ میں نے دیکھا ایک تھکا ہارا باپ اپنے سست قدموں کے ساتھ گھر کی دہلیز پر پاوں رکھتا ہے تو بیٹی بھاگ کر اپنے بوڑھے باپ کو

کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرهوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینا” دنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین

ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮔﺮ ﮔﺌﮯ ﺟﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﭼﮭﻼﻧﮕﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ

کہتے ہیں کسی جگہ دو شخص رہتے تھےایک کا نام “عقل” تھااور دوسرے کا نام “نصیب”ایک دفعہ وہ دونوں کار میں سوار ہو کر ایک لمبے سفر پر نکلےآدھے راستے میں سنسان راستے پر کار کا پیٹرول ختم ہوگیادونوں نے کوشش کی کہ کسی طرح رات گہری ہونے سے پہلے یہاں سے نکل جائیں،مگر اتنا

*خوبصورت تحریر* پرانے استاد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے چھٹی پر جانا پڑا تو ایک نئے استاد کو اس کے بدلے ذمہ داری سونپ دی گئی.. نئے استاد نے سبق کی تشریح کر چکنے کے بعد ایک طالبعلم سے سوال پوچھا تو اس طالب علم کے ارد گرد بیٹھے دوسرے سارے طلباء ہنس پڑے..

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﻝ ﻭ ﻋﺮﺽ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﯿﺮ ﮐﭽﮯ ﭘﮑﮯﺭ ﺍﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﮕﻼﺥ ﭼﭩﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻞ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﺘﻮﺭﻡ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﮯ ﺟﻦ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ

حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بار گھر تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے یہ سوت کاتا ہے آپ اسے بازار لے جائیے اور بیچ کر آٹا لے آئیے تاکہ حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) کو روٹی کھلاؤں۔ حضرت علی وہ سوت بازار لے گئے اور اسے چھ

اسلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ ایک شخص کا ایک بیٹا تھا، روزانہ رات کو دیر سے گھر آتا تھا، اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا اتنی دیر کہاں تھے،؟ تو بیٹا جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا، ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ

خوش رہنے کا عجیب انداز چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں خوشیوں کی تلاش ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی۔ ایک شب اس نے لکھا کہ: میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے

اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﺎ ، ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ، ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮈﺳﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ