logo-mini

ہمارے معاشرے میں نکاح کی اہمیت

ہمارے معاشرے میں نکاح کی اہمیت

ہمارے معاشرے میں نکاح کی اہمیت

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و رَحْمَةُ اﷲ وَ بَرَكـَـاتُہ

ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کا آپس میں پیار کرنا جرم سمجھا جاتا ہے، شوہر پیار سے بات کرے تو وہ بیوی کا غلام

ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا تک غلط تصور کیا جاتا ہے

بیوی کا شوہر کے لئے بننا سنورنا گناہ سمجھا جاتا ہے جس کا حکم ہے

باہر جاتے وقت خاص طور پر شادی یا پارٹی پر جاتے ہوئے، حتیٰ کہ بازار تک جاتے ہوئے خوب بناؤ سنگھار بھی غلط نہیں سمجھا جاتا

حتیٰ کہ شادی پر پردہ دار خواتین تو پردہ کرنا بھی غلط سمجھتی ہیں، خود اپنی بہو و بیٹیوں کی بے پردگی اور خوب بناؤ سنگھار پسند کرتیں ہیں

دوسرا اگر بیوی گھر میں رہ کر شوہر کو خوش کرے گی تو دیور کی موجودگی کی وجہ سے گناہگار ہوگی

میاں بیوی کے مخصوص اوقات میں بھی کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی، نہ ہی کوئی اجازت لینا ضروری سمجھتا ہے پھر یہی ترسے ہوئے مرد باہر تاڑتے رہتے ہیں

مرد کا ناجائز رشتہ رکھنا برداشت کرلیا جاتا ہے لیکن

اسی مرد کا دوسری شادی کی خواہش رکھنا گناہ سمجھا جاتا ہے

کہیں اگر کسی مرد نے نکاح کرکے بیوی رکھی ہے تو اس امر کو بھی گناہ سمجھا جاتا ہے

اسی طرح نکاح کے بعد اگر کسی کی رخصتی نہیں ہوتی تو اس جوڑے کو میاں بیوی ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں, سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رشتہ نکاح کے بعد بنتا ہے یا رخصتی کے بعد ؟؟؟

ان کا آپس میں بات کرنا تک بھی معیوب سمجھتے ہیں, ان کو طعنہ زنی کرتے ہیں, ان کی طرف غلط باتیں منسوب کرکے ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں, جیسے وہ آج بھی نامحرم ہوں، تو نکاح کی اہمیت کیا ہے آخر؟؟؟
اور اس وقت شیطان اپنے گھٹیا ترین منصوبے کی کامیابی پر اپنے چیلوں کے ساتھ جشن منا رھا ھوتا ھے,
کیوں کہ اﷲ تعالیٰ اور فرشتوں کے نزدیک میاں بیوی کی محبت اور میاں بیوی کا آپس میں پیار کرنا بہت زیادہ پسندیدہ عمل ہے بلکہ اس عمل کو عبادت کہا جاتا ہے.
اور مسلمانوں کے اس طرح کے رویے اور عمل سے اﷲ تعالیٰ کو ناراض اور شیطان کو خوش کرتا ہے, شیطان کی سب سے بڑی خوشی میاں بیوی کے درمیان دوری اور ناچاکی پیدا کرنا ہے, محرم کو نا محرم بنا کر اس کی عید ہوتی ہے.

ایسی سچوئیشن سے آپکا بھی اکثر پالا پڑا ہوگا, ایسی صورتِ حال میں یا تو آپ کا شمار غلط کرنے والوں میں ہوتا ہوگا یا سہنے والوں میں

ہم مسلم ہو کر قرآن مجید کے فرمان کی بجائے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ مل کر اس جوڑے کو ٹاچر کرکے انکی زندگی اور زندگی کی خوشیاں ان پر تنگ کر دیتے ہیں, یہاں تک کہ ان کو معاشرے میں گالی یا عبرت کا باعث بنا دیتے ہیں, بِنا جرم کے مجرم بنا دیتے ہیں، اور سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ہماری رو کدھر بہہ رہی ہے؟؟

ایسی برائیاں تو غیر مذہبوں میں بھی موجود نہیں ان کے معاشرے میں غلط اور سہی کی پہچان ہم سے قدرے بہتر ہے

ان تمام صورتوں میں یہ سوال میرے دماغ میں اکثر اٹھتے ہے مگر اس کا جواب بھی باقی سوالوں کی طرح دو رخہ ہی ملتاہے, اسلام اور معاشرے کے اس ٹاپک پر  جوابات مختلف ملتے ہیں, نجانے ہم کون ہیں؟؟؟

ہم کس ڈال سے بچھڑے پنچھی ہیں ؟؟

کہیں ہمارے اندر انگریز براجمان ہے تو کہیں سکھ کلچر، کہیں ہندو کلچر

ذرا ٹھہریئے!!!

ہم تو مسلمان ہیں نہ؟؟؟

لیکن ہمیں تو عرب و اسلامی کلچر، اسلامی قانون اور اسلامی روایات سے کوئی واسطہ نہیں۔۔

ان پر عمل کرنے سے تو لوگ (یہ دوغلا معاشرہ) بہت برا کہتے ہیں

پھر ہم ہیں کون؟؟؟

مسلم, سکھ یا عیسائی؟؟

یہ سوچنے کا مقام ہے آج بھی ہم نہ سوچیں گے تو کب سوچیں گے؟؟ یہ دہارا کہاں جا کر رکے گا آخر؟؟؟

اﷲ پاک و برتر سے دل کی گہرائیوں سے التجا ہے کہ ہم سب کو نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے اور دوسروں میں بانٹنے کی توفیق بھی عطا فرمائے. اللھم آمیٰن یا رب اللعالمیٰن

وَٱلَّذِينَ يَرْمُونَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا۟ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَٱجْلِدُوهُمْ ثَمَٰنِينَ جَلْدَةًۭ وَلَا تَقْبَلُوا۟ لَهُمْ شَهَٰدَةً أَبَدًۭا ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ
Waallatheena yarmoona almuhsanati thumma lam yatoo biarbaAAati shuhadaa faijlidoohum thamaneena jaldatan wala taqbaloo lahum shahadatan abadan waolaika humu alfasiqoona
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں،
And those who accuse chaste women and do not bring four witnesses to testify – punish them with eighty lashes and do not ever accept their testimony; and it is they who are the wicked.
(24 : 4)
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
Illa allatheena taboo min baAAdi thalika waaslahoo fainna Allaha ghafoorun raheemun
مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Except those who repent after this and reform themselves; so indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
(24 : 5)
وَٱلَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَٰجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَآءُ إِلَّآ أَنفُسُهُمْ فَشَهَٰدَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَٰدَٰتٍۭ بِٱللَّهِ ۙ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
Waallatheena yarmoona azwajahum walam yakun lahum shuhadao illa anfusuhum fashahadatu ahadihim arbaAAu shahadatin biAllahi innahu lamina alssadiqeena
اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے
And those who accuse their wives and do not have witnesses except their own statements – for such the testimony is that he bear the testimony four times by the name of Allah that he is truthful.
(24 : 6)
وَٱلْخَٰمِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
Waalkhamisatu anna laAAnata Allahi AAalayhi in kana mina alkathibeena
اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو،
And the fifth time, that the curse of Allah be upon him if he is a liar.
(24 : 7)
وَيَدْرَؤُا۟ عَنْهَا ٱلْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَٰدَٰتٍۭ بِٱللَّهِ ۙ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
Wayadrao AAanha alAAathaba an tashhada arbaAAa shahadatin biAllahi innahu lamina alkathibeena
اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے
And the punishment shall be averted from the woman if she bears the testimony four times by the name of Allah, that the man is a liar.
(24 : 8)
وَٱلْخَٰمِسَةَ أَنَّ غَضَبَ ٱللَّهِ عَلَيْهَآ إِن كَانَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
Waalkhamisata anna ghadaba Allahi AAalayha in kana mina alssadiqeena
اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو
And the fifth time, that the wrath of Allah be upon her if the man is truthful.
(24 : 9)
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌۭ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّۭا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُم مَّا ٱكْتَسَبَ مِنَ ٱلْإِثْمِ ۚ وَٱلَّذِى تَوَلَّىٰ كِبْرَهُۥ مِنْهُمْ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ
Inna allatheena jaoo bialifki AAusbatun minkum la tahsaboohu sharran lakum bal huwa khayrun lakum likulli imriin minhum ma iktasaba mina alithmi waallathee tawalla kibrahu minhum lahu AAathabun AAatheemun
تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
Indeed those who have brought this great accusation are a group from among you; do not consider it bad for you; on the contrary, it is good for you; for each man among them is the sin that he has earned; and for the one among them who played the greatest part in it – for him is a terrible punishment.
(24 : 11)
يَعِظُكُمُ ٱللَّهُ أَن تَعُودُوا۟ لِمِثْلِهِۦٓ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
YaAAithukumu Allahu an taAAoodoo limithlihi abadan in kuntum mumineena
اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو،
Allah advises you never to speak like this again, if you have faith.
(24 : 17)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply