logo-mini

ertugrul

آج میں ارطغرل کے موضوع کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں، ترکی کے اس ڈرامے کی میں نے دو سال قبل اتنی دھوم سنی، میں ڈرامے نہیں دیکھتی مگر اس ڈرامہ میں ایسا کیا ہے جو امریکہ کو خوفزدہ کرگیا، یہ دیکھنے کے لئے صرف ایک قسط دیکھنی چاہی مگر اسلامی ہسٹری اور اقدار کو اس قدر باریک بینی سے پیش کرتے ہوئے دیکھ کر میں متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی اور پھر باقی کی تمام اقساط دیکھنا بھی میری مجبوری بن گیا، اور آج کل ہر طرف اس کا ہی چرچا ہے، امریکہ کے ساتھ ساتھ ہمارا میڈیا بھی اس ڈرامہ سے اب خوفزدہ ہے، کہ انڈسٹری تباہ ہوجائے گی، اداکار بے روزگار ہو جائیں گے،اول تو ایک صدی کے قریب انڈین اور انگلش فلموں اور ڈراموں کو دکھاتے ہوئے اس میڈیا کو کبھی اعتراض نہ ہوا، رہی بات ترکی کےڈرامہ کی تو وہ بھی  یہ پہلا ترک ڈرامہ نہیں جو پاکستان میں دکھایا جا رہا ہو، اس سے قبل بہت عرصہ سے میرا سلطان کی کافی شہرت سنی تھی، اسکے علاوہ بھی بہت سے ڈرامے دکھائے گئے تو صرف اسی ڈرامہ کی اس قدر میڈیا مخالفت کیوں کر رہا ہے؟

 میڈیا عوام اور وطن کے ساتھ کتنا مخلص ہے ہم  دیکھ  ہی رہے ہیں۔

اب عوام کے تاثرات بھی ملاحظہ ہوں، کچھ لوگ اس کو اسلامی ڈرامہ کہہ رہے ہیں ، کچھ علماء فتوے لگا رہے ہیں کچھ مائیں خوش ہیں کہ بیکار افسانوی اور سازشی پاکستانی و انڈین ڈرامے اور بیہودہ فلمیں دیکھنے کی بجائے معیاری اور تاریخی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں، تو کچھ مائیں شکوہ کناں کہ کیا فائدہ جب کچھ سیکھا ہی نہیں، نہ نماز پڑھنی سیکھی نہ تمیز سیکھی نہ تہذیب سیکھی، نہ دین سیکھا،  جو سکھانا انہی ماؤں کا کام  ہے ، بیشک اپنے بچوں کوسمجھائیں مگر اس ڈرامے کو بنیاد بنا  کر نہیں، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ہر اچھی بات پر ہی تنقید یا روک ٹوک یاد آتی ہے، ورنہ چھوٹا بیم جیسے ہندوؤانہ کلچر اور مذہب کو دکھاتے ہندو بھجن گاتے ہوئے ڈرامے اور اس طرح کے کارٹونز دکھاتے اور دیکھتے ہوئے ان کو اپنے بچوں کی  فکر نہیں ہوتی رہی؟؟آخر کیوں ؟؟

 علماء کرام کو بھی باقی تمام فلموں اور ڈراموں کے لیے یہ سب یاد نہیں آیا کبھی، کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری تاریخ یا ہمارے ہیروز نہیں ترکوں کے ہیں، قوم پرستی آج شروع ہوئی ہے، ورنہ اسلام کی ہر فتح ہر مسلم کی فتح ہے، اسلام کی خاطر دی جانے والی ہر قربانی ہر مسلم پر احسان ہے، ورنہ بتائیں مجھے فتح مکہ اور تمام غزوات اور کربلا کی عظیم قربانی کس کی ہیں؟ ہر انسان کلمہ پڑھتے ہی اسلام کے دائرے میں آ جاتا ہے، دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی بھی مسلم پر ظلم یا زیادتی ہو تو تمام عالم اسلام کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث ہے، جہاں تک بات تھی رمضان میں یہ ڈرامہ دیکھنے کی، تو میرے خیال میں تو رمضان میں ٹی وی آف ہی رہنا چاہیے، مگر جو لوگ ٹی وی آف نہیں رکھتے اور جیتو پاکستان یا سحری اس کے ساتھ افطار اس کے ساتھ جیسے پروگرامز میں کسی نہ کسی فلمی سیلیبریٹیز یا ماڈلز کو دیکھتے ہوئے نا ہی ان ماؤں کو وقت کا ضیاع یاد آتا تھا اور نہ ہی رمضان کی عبادات کا خیال۔۔ روزے کے ساتھ ساتھ انڈین فلمیں اور انڈین اور پاکستانی ڈرامے دیکھتے ہوئے بھی روزے کی عبادت یاد آتی تھی نہ وقت اور دین سیکھنے کا احساس، نہ ہی ایسے پروگرامز اور فلموں کے لئے علمائے کرام کے فتوے لگتے تھے، صرف اور صرف ایک ارطغرل ڈرامے کے لئے ہی تمام کی تمام تنقیدات اور اعتراضات اور فتوے ہی آخر کیوں؟؟؟۔ عبادت و دین کو اس ڈرامے کے خلاف جا کر نہ سیکھیں رہی بات اس ڈرامے پر اٹھنے والے اعتراضات کی تو بہرحال یہ ایک ڈرامہ ہے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی غلطی رہ جاتی ہے ہے غلطیوں سے قطع نظر آج تک کی تاریخ کا یہ سب سے بہترین شاہکار ہے،جس میں نہایت بہترین ڈائریکشن، تحریر اور ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ بہت ہی باریک بینی سے اسلامی اقدار اور اسلامی تاریخ کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، اور آج ان سب کی ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی بہت سخت ضرورت ہے پلیز خود بھی دیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی دیکھنے دیں، باقی ذمہ داریوں کے لیے اس ڈرامے کا طعنہ دے کر نہیں اس سے ہٹ کر کہیں وہ آپکا فرض ہے، میڈیا اتنا کیوں تڑپ رہا ہے، ایک صدی سے ہندی فلموں اور ہندی ڈراموں نے اس میڈیا کو کیوں کنگال نہ کیا؟؟ کیوں انڈسٹری برباد نہ ہوئی؟؟؟صرف اسی ڈرامے کے خلاف اتنا احتجاج کیوں؟ اس سے یہ پردہ بھی اٹھ گیا کہ ہمارا میڈیا پاکستان یا اسلام کے ساتھ کس قدر مخلص ہے کیونکہ اس کو بنانے کا مقصد اور نیت دونوں ہی بہت بہترین تھیں ان کو ایپریشیٹ کریں اس سے وہ سبق سیکھا جائے جو اس ڈرامے کے ذریعے ہمیں سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں اسلامی اقدار اور تاریخ سے آگاہ ہونا چاہئے  نہ صرف ارطغرل بلکہ اس کے ساتھ کے تمام لوگوں نے اور آج تک کی تاریخ کے بھی تمام ایسے لوگوں کو جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں دیں، ہمیں ان سب کی لازوال قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے اور خود بھی انہی باتوں کی پیروی کریں، غداروں کا انجام بھی دیکھیں، نہ زندگی میں ان کو سکون ملا ، نہ بعد میں کوئی ان کو اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے اور آخرت میں بھی وہی برباد، مگر اسلام کی راہ میں جینے اور مرنے والے کا ایک چھوٹا سا عمل بھی سنہری حروف میں یاد رکھا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہی لوگ کامیاب رہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ اپنی بنیاد اور اپنے اصلیت کو بھلا دیتی ہیں تاریخ ان کا مستقبل مسخ کر دیتی ہے اسلام کی قدر و قیمت بھی اس ڈرامے سے مزید واضح ہوتی ہے، میڈیا کے ساتھ ساتھ دشمن بھی اس ڈرامے سے اس حد تک خوفزدہ ہیں، تو اس وجہ سے کہ مسلمان پھر سے بیدار نہ ہو جائیں ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اسلام اور اپنے وطن کے ساتھ ہمیشہ پر خلوص رہیں، تمام مسلمانوں کو اپنا سمجھیں اور ان کی مدد کریں، آج اکثر پاکستانی بہت شوق سے یہ ڈرامہ دیکھ تو رہے ہیں مگر اس کے مقصد کی بجائے اس کے اداکاراؤں کے لئے دیوانے ہورہے ہیں،جنہوں نے اپنا رول بہتریں ادا کیا ہے دوسری طرف کچھ لوگ حقیقی ارطغرل اور ان کے ہیروز کو غلط اور برا کہہ رہے ہیں، ان پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ کسی بھی قوم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن اور مخالفین ہی کی طرح اپنوں کی اچھائی کو برائی سمجھنے اور کہنے لگتے ہیں۔ اﷲ تعالی ہم سب کو متحد و یکجا کرکے اپنی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تمام عالم اسلام کو ایک دوسرے کا احساس و مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آج پھر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہی فتح ہر جگہ اور ہر زبان پر ہو۔ آمین یا رب العالمین

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply