logo-mini

درخت اور پہاڑ انسان اور زمین کے ڈاکٹر

درخت اور پہاڑ انسان اور زمین کے ڈاکٹر

ﺍﻟﺴَّــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـﻜُﻢ وﺭَﺣﻤَﺔُ اﷲ ﻭَﺑَﺮَﻛـَﺎﺗُﻪ!

قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے پہاڑ اور درخت کو زمین کی میخیں قرار دیا ہے

اور وجہ بھی بتادی کہ زمین نہ کانپے۔۔۔

خود سوچیں کہ کسی بھی چیز کو جوڑنے کے لئے میخ یعنی کیل کا قدر اہم ہیں، کیل نکال دو تو چیز ٹوٹ جائے گی

زمین اور زمین والوں کے لئے درخت اوزون ہیں، یعنی پھیپھڑوں کی طرح کام کرتے ہیں، جس طرح پھیپھڑے انسانی جسم کے لئے اشد ضروری ہیں اسی طرح ہوا یعنی آکسیجن کو انسان تک پہنچنے سے پہلے درخت ہی صاف کرتے ہیں ہر طرح کی آلودگی اور کثافتوں سے

مگر انسان

ایسا نادان اور بیوقوف ہے کہ زمین کو خود ہی کمزور کرتا ہے اور خود ہی اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے ایسے ایسے قبیح گناہ کرتا ہے کہ زمین بھی کانپ کانپ جاتی ہے یہ دونوں اعمال ہی زلزلے کا باعث ہیں۔۔۔

خدارا درخت لگائیں پہاڑوں کو مت کاٹیں

اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں، قدر کریں اور حفاظت کریں

جس نے ایک درخت بھی لگا دیا تو وہ بھی صدقہ بن جائے گا آپ کے لئے، نجانے اس سے کون کون پھل اور سایہ حاصل کرے، نجانے کس کس کی ادویات بنے،

درخت اگر بنجر اور بے آباد جگہ پر ہیں تو بارش برسانے کا سبب بنتے ہیں۔ اگر سیم و تھور کی شکار کسی زمین پر ہیں تو زمین کو قابل کاشت بناتے ہیں۔ اگر کسی پہاڑ کی چوٹی پر ہیں تو برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر زمین کو سیلاب اور آفات سے بچاتے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر کسی سڑک یا راستے پر ہیں تو چھاؤں فراہم کرکے آنے جانے والوں کے لئے راحت کا سامان بنتے ہیں اور اگر کسی بھوکے انسان یا جانور کے سامنے ہیں تو اس کی بھوک مٹاتے ہیں اور اگر کسی بیماری کا علاج درکار ہے تو بہت سی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں

اﷲ تعالی ہمیں اپنا اور دوسروں کا نقصان کرنے سے بچائے اور دوسروں کے لئے آسانیاں اور راحتیں فراہم کرنے والا بنائے.. آمین یارب اللعالمین
مطلوب دعا … آسیہ روبی

وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًۭا
Waaljibala awtadan
اور پہاڑوں کو میخیں
And the mountains as pegs?
(78 : 7)
وَجَعَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًۭا سُبُلًۭا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
WajaAAalna fee alardi rawasiya an tameeda bihim wajaAAalna feeha fijajan subulan laAAallahum yahtadoona
اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں
And We have placed mountains as anchors in the earth so that it may not shake with them; and We kept wide roads in it, so that they may find guidance.
(21 : 31)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply