logo-mini

ورلڈ ٹریڈ سینٹر بمقابلہ نمرود کی عمارت

ورلڈ ٹریڈ سینٹر بمقابلہ نمرود کی عمارت

اَلسَلامُ و عَلَيْكُم وَرحْمَةُ اﷲ وَبَرَكاتُہ

آج برج دوبئی کی اونچائی دیکھنے والوں کو بہت حیران اور متاثر کرتی ہے، اور اس سے قبل امریکہ کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر دنیا کی بلند ترین عمارت تھی، جس کی تباہی آج بھی امریکہ اور دنیا کو یاد ہے اس کے بعد حال ہی میں اس سے بھی زیادہ بلند عمارت تعمیر کی گئی ہے، جس کا نام برج دوبئی ہے
برج دوبئی 828 میٹر بلند ہے
اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر 397 میٹر بلند تھی
لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ
نمرود بن کنعان نے شہر بابل میں پانچ ہزار گز (5000 گز) یعنی 4572 میٹر اونچی ایک عمارت تعمیر کروائی تھی،

تاکہ وہ (نعوذ باﷲ) آسمان والوں سے جنگ کرسکے۔
حیرت انگیز بات ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا نمرود کی عمارت یا بابل کے مینار سے مماثلث رکھنا ہے،

نمرود کی عمارت کا بیان قرآن مجید کے گیارہوں پارہ کی 9 ویں سورہ کی 110ویں آیت میں بیان فرمایا گیا،

قابلِ حیرت بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سال کے نویں مہینے کی گیارہ تاریخ کو تباہ ہوئی اور اس کی 110 منزلیں تھیں

سورۃ التوبۃ میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ عمارت ان کے دلوں میں ہمیشہ کھٹکتی رہے گی،

اور مزید یہ کہ ورلڈ ٹریڈ کی تباہی بھی آج تک ان کے دلوں میں کھٹکتی ہے

انسان سازشیں کرتے ہوئے اپنی کم مائیگی کو بھول جاتا ہے، لیکن اﷲ اپنی تدبیر کر رہا ہوتا ہے، اور یاد رکھو اﷲ کی خفیہ تدبیر سب پر شروع دن سے ہی حاوی رہی ہے، اور ہمیشہ حاوی رہے گی

بابلِ مینار یا نمرود کی عمارت کو اتنے لمبے دورانیے کے بعد تعمیر اور لمبی چوڑی سازشیں کرتے ہوئے نمرود اور اس کے ساتھی بھی بھول گئے کہ وہ سب بظاہر نظر آنے والے دنیا کے طاقتور ترین انسان ہیں، لیکن اﷲ کی مرضی کے تحت، اﷲ نہ چاہتا تو وہ سب مل کر تنکا بھی نہ توڑ پاتے، وہ آسمان پر جاکر جنگ کرنے کی تیاری میں مصروف عمل تھے، لیکن میرے پروردگار نے دکھا دیا کہ تم تو زمین پر اپنی بنائی ہوئی بلندو بالا عمارت دیکھنے کے بھی قابل نہیں، تمھاری بساط تو ایک نظر مرنے سے پہلے اپنی عمارت میں ایک قدم رکھنے کی بھی نہیں تھی، اور قابل عبرت بات دیکھئیے کہ ان زمینی جھوٹے خداؤں، طاقت کے بلند میناروں کو ہرانے کے لئے اﷲ تبارک اﷲ تعالیٰ نے اپنا ایک بندہ بھی بھیجنا پسند نہ کیا، کوئی فرشتہ تو بہت دور، کوئی طاقتور جانور بھی نہیں، طاقت کے مینار کو اتنی زور کا تھپڑ مارا وہ بھی عمارت کو ان سب کے اوپر گرا کر ان سب کو ہلاک کردیا ایک قول کے مطابق ایک مچھر نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور طویل مدت تک اس کا دماغ چاٹتا رہا وہ موت مانگتا لیکن نہ آتی، وہ اپنا سر دیواروں اور پتھروں پر مارتا پھرتا تھا، ہتھوڑوں سے کچلواتا تھا، یونہی رینگ رینگ کر بدنصیب نے ہلاکت پائی

تفسیر ابن كثیر میں ہے کہ نمرود بادشاہ کا پورا نام نمرود بن کنعان بن سام بن نوح تھا اس کا پایہ تخت بابل تھا اس کے نسب میں کچھ اختلاف بھی ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مومن اور دو کافر، حضرت سلیمان بن داؤد اور حضرت ذوالقرنین، اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر،
نہایت جابر، سرکش اور مغرور بادشاہ تھا،تقریباً چار سو سال تک حکومت کی، بت پرستی اس کے دور میں عام تھی، خود کو خدا سمجھتا تھا، سب سے پہلے اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ لوگوں سے زبردستی اپنی پرستش کراتا تھا کاہن اور نجومیوں کو اس کے دربار میں بہت عزت و تکریم حاصل تھی، جنہوں نے نمرود کو اس کے ضواب کی تعبیر بتائی کہ اس سال ایک بچہ ایسا پیدا ہو گا جو تجھے برباد کردے گا۔ اس لیئے شہر میں ہر پیدا ہونے والا بچہ قتل کردیا جاتا لیکن ہزاروں بچے قتل کرنے کے بعد بھی اﷲ نے اپنی قدرت ہمیشہ کی طرح حاوی رکھی اور بے اولاد جوڑے کے ہاں بہت منت و مرادوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہو گئے اور نمرود کے ہی شہر میں پل کر جوان ہوکر اس کو اﷲ کا پیغام پہنچانے پہنچ گئے اور وہ لا علم رہا
نمرود کی دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈلوا دیا۔ مگر وہ آگ آپ پر گلزار بن گئی  اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سرعام اﷲ کی وحدانیت کی تبلیغ کرنے لگے۔

نمرود نے ایک دن تنگ آ کر ایک دن آپ کو اپنے دربار میں بلایا اور مناظرہ کیا جو اﷲ نے قرآن مجید اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:۔
ترجمہ قرآن:۔اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر کہ اﷲ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جلاتا اور مارتا ہے بولا میں جلاتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو  سورج کو لاتا ہے پورب سے تو اس کو پچھم سے لے آ , تو ہوش اُڑ گئے کافر کے اور اﷲ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو۔ (البقرۃ:258)

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے کفر، شرک، غرور، تکبر اور حسد سے بچائے، آمیٰن

مطلوبِ دعا۔۔ آسیہ روبی

لَا يَزَالُ بُنْيَٰنُهُمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
La yazalu bunyanuhumu allathee banaw reebatan fee quloobihim illa an taqattaAAa quloobuhum waAllahu AAaleemun hakeemun
وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
The building which they erected will constantly keep disturbing their hearts unless their hearts are torn to pieces; and Allah is All Knowing, Wise.
(9 : 110)
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِۦمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
Alam tara ila allathee hajja ibraheema fee rabbihi an atahu Allahu almulka ith qala ibraheemu rabbiya allathee yuhyee wayumeetu qala ana ohyee waomeetu qala ibraheemu fainna Allaha yatee bialshshamsi mina almashriqi fati biha mina almaghribi fabuhita allathee kafara waAllahu la yahdee alqawma alththalimeena
اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق) سے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ تو ہوش اڑ گئے کافروں کے، اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو،
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see him who argued with Ibrahim (Abraham) concerning his Lord, as Allah had given him the kingdom? When Ibrahim said, "My Lord is He Who gives life and causes death", he answered, "I give life and cause death"; Ibrahim said, "So indeed it is Allah Who brings the sun from the East – you bring it from the West!" – the disbeliever was therefore baffled; and Allah does not guide the unjust.
(2 : 258)

 

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply