logo-mini

عورت کا پیشوا کون؟

عورت کا پیشوا کون؟

ﺍﻟﺴَّــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـﻜُﻢ وﺭَﺣﻤَﺔُ ﷲ ﻭَﺑَﺮَﻛـَﺎﺗُﻪ
میں اپنی مسلم بہنوں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپکا پیشوا کون ہے؟
آپ براہِ راست ﷲ تعالیٰ اور ﷲ تعالیٰ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کی پیروی کیوں نہیں کر سکتی؟ کیا آپ کا دین اور آپ کا ایمان آپ کے باپ،شوھر یا بھائی کے تابع کیوں ہے؟آپ دین کو انکی نظر سے کیوں سمجھتی اور دیکھتی ہیں؟قرآن فرماتا ہے:سورہ النساء:۳۲
(اور مردوں کے لئے انکی کمائی (اعمال)سے حصہ ہے اور عورتں کے لئے انکی کمائی سے حصہ ہے۔)
کیا آپ کے لئے قرآن اور رسولِ امین رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تشریف نہیں لائے؟ کیا آپکو متعدد مرتبہ قرآنِ پاک میں خوشخبری کے القاب سے پکارا نہیں گیا؟ آپ کو عزت و مقام نہیں دیا گیا؟ آپکے لئے اسلامی احکامات نازل نہیں ہوئے؟
اپنے باپ ، بھائی یا شوہر کو راضی کرنے کے لئے یا اپنا گھر بچانے کی خاطر اپنے دین کو پسِ پشت کیوں ڈال دیتی ہیں؟ آخر کیوں؟
نماز یا کچھ مزید گھریلو امور اپنی ماں یا دادی کے تابع۔درست ہے کہ اپنے بزرگوں کی پیروی کرنا اپنے باپ اور شوہر کی فرمانبرداری کرنا لازم ہے مگر آپکو اچھی طرح علم ہو کہ وہ حکم ﷲ تعالیٰ و رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے حکم کے خلاف تو نہیں؟
اگر نہیں تو انکی فرمانبرداری آپ پر فرض ہے۔ مگر جو دین سے الٹ نہ ہو ،اور بزرگوں سے زیادہ اپنے ﷲ اور اپنے رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا اور اس کی خاطر ہر عمل کرنا ہم پر فرض ہے کیونکہ روزِ حشر ہمارا نامہء اعمال ہمارے ہاتھ میں ہوگا،اور اسکے جواب دہ ہم ہوں گے۔ باپ،شوہر یا بھائی ہرگز جواب دہ نہ ہوں گے، نہ ہی وہاں کوئی مدد کر پائے گا، نہ ہی کوئی ہمارے گناہوں کا بوجھ اٹھانا چاہے گا۔
اس وقت صرف آپ ہوں گی اور ﷲ تبارک و تعالیٰ اور اگر آپ کوئی نیک عمل بھی کریں گی تو بھی ﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے نہیں کیا تو ﷲ تعالیٰ تو راضی نہ ہوأ۔ ہاں آپ کا شوھر ،باپ یا بھائی شاید خوش ہوجائیں گے۔ وہ بھی اگر ﷲ تعالیٰ نے چاہا تو۔
تو جو بھی عمل کریں اپنے ﷲ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کریں، نماز ہو یا کوئی بھی عمل اپنے پیارے آقا محمد مصطفےٰ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر،اور اپنے دین اور اپنے قرآن کو اپنی عقل اور اپنی سمجھ کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں۔
اپنے زاویہء نظر سے اپنے دین کو جینے کی سعی کریں۔ ہر عورت کے لیے بھی دین اسی طرح نازل کیا گیا ہے جس طرح کہ مرد وں کے لیے ۔تو عورت اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟
اپنے قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اپنے دین کو اپنے نظریہء سے جیئیں، اس طرح روزِ حشر ہمارے اعمال ہماری گردن پر ہوں گے، وہاں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گی کہ مجھے میرے باپ یا شوہر نے مجبور کیا یا میرے نفس یا شیطان نے گمراہ کیا۔
اخلاقیات، احکامات اور پردہ ہر عمل اپنے دل کی خوشی سے کرو اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر کریں۔
اپنے بچوں کی تربیت بھی ﷲ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کریں، سسرال یا شوہر کے حکم کے مطابق نہیں، نہ ہی معاشرے کے غلط رسومات کے تحت۔۔
بلکہ والدین اور شوہر کی اطاعت گزاری اور رشتے بھی ﷲ تعالیٰ اور ﷲ کے رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی پیروی سمجھ کر کریں، یاد رکھیں آپ کا شوہر، آپ کا باپ،آپ کی اولاد یا معاشرہ تب تک ہی آپ کے ساتھ ہیں جب تک آپ کا ﷲ چاہے گا۔
ایک مرد کی جاہلیت ایک فرد کا بگاڑ ہے، جبکہ ایک عورت کی جاہلیت پوری نسل کا بگاڑ ہے۔
والسلام۔۔مطلوبِ دعا۔۔ آسیہ روبی
وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا
Wala tatamannaw ma faddala Allahu bihi baAAdakum AAala baAAdin lilrrijali naseebun mimma iktasaboo walilnnisai naseebun mimma iktasabna waisaloo Allaha min fadlihi inna Allaha kana bikulli shayin AAaleeman
اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
And do not long for things by which Allah has given superiority to some of you over others; for men is the share of what they earn; and for women the share from what they earn; and seek from Allah His munificence; indeed Allah knows everything.
(4 : 32)
ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ
IttabiAAoo ma onzila ilaykum min rabbikum wala tattabiAAoo min doonihi awliyaa qaleelan ma tathakkaroona
اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
O mankind, follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow other administrators, abandoning this (the Holy Qur'an); very little do you understand.
(7 : 3)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
Ya ayyuha allatheena amanoo istajeeboo lillahi walilrrasooli itha daAAakum lima yuhyeekum waiAAlamoo anna Allaha yahoolu bayna almari waqalbihi waannahu ilayhi tuhsharoona
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
O People who Believe! Present yourselves upon the command of Allah and His Noble Messenger, when the Noble Messenger calls you towards the matter that will bestow you life; and know that the command of Allah becomes a barrier between a man and his heart's intentions, and that you will all be raised towards Him.
(8 : 24)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply