logo-mini

آپ کی بیوی بھی اپنے باپ کے دل کا ٹکڑا ہے

آپ کی بیوی بھی اپنے باپ کے دل کا ٹکڑا ہے

آپ کی بیوی بھی اپنے باپ کے دل کا ٹکڑا ہے

بِسْـــــــــمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

ﺍﻟﺴَّــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـﻜُﻢ وﺭَﺣﻤَﺔُ اﷲ ﻭَﺑَﺮَﻛـَﺎﺗُﻪ

بیٹی کی تکلیف پر تڑپنے والا مرد بیٹی کو تکلیف میں دیکھ کر بھی بیوی کا احساس نہیں کرتا کہ وہ بھی کم سن تھی جب آئی تھی تب سے بیماری میں بھی، تھکاوٹ میں بھی، عید پر بھی ہمیشہ کچن میں جاتی ہے، ہر مزدور کی طرح کیا کبھی اس کو چھٹی کا حق نہیں؟ یا بیٹی کی طرح اس کو تکلیف نہیں ہوتی؟ یا کیا یہ کسی کی بیٹی نہیں؟

کیا اس کو مرہم یا پیار کے دو بول کی ضرورت نہیں؟

بدلے میں ہمیشہ گالی، تحقیر یا کرتی ہی کیا ہو جیسے ناشکرا پن اور اچھائی کا صلہ برائی جیسے الفاظ

ناجائز ماں کی تربیت اور خاندان کو گالیاں

بات بات پر اوقات نہیں کے طنز و تشنیع چلاتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اوقات کا تعین تو صرف اﷲ تعالیٰ کی نظر و احاطہ میں ہے

اگر یہی مرد بیوی کا بھی احساس کرلیں تو کوئی بھی ماں باپ اپنی بیٹی کے لئے پریشان نہ ہوں

اسی طرح ہر عورت اپنے شوہر کو اس کے اصل رشتوں سے دور یا بدگمان نہ کرے، ہمیشہ یاد رکھے کہ ہر مرد پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے، نہ اس سے دور کرنے کی کوشش کرے، نہ ہی حکمرانی کرنے کی کوشش کرے، یاد رکھو حکمران مرد ہے عورت اس کے دل اور گھر کی ملکہ ہے
دونوں ہی ہمیشہ
ذاتی پسند کی بجائے ﷲ تعالیٰ اور رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی پسند کو ملحوظِ خاطر رکھیں

کاش کہ ہر مرد و عورت ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کی بجائے ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن کر ایک دوسرے کو سکون و خوشیوں کا باعث بنیں۔ آمین یارب العالمین

یقین کریں اس معاشرے کے زوال اور نوجوان نسل کے بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ یہ شیطان کے پھیلائے ہوئے جال عورت و مرد کو ایک دوسرے کا دشمن اور مخالف بنانا ہے، شیطان کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے یہ

اﷲ تعالیٰ کی انسان سے محبت کے بعد

حضرت آدم علیہ السلام کے لئے حضرت حوا علیہ السلام کا ساتھی بنادیا جانا اس سے برداشت نہ ہوسکا،جنت سے نکلوا دیا، دنیا کے سب سے پہلے رشتے پر وہ سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتا ہے۔

یہ کلیہ سمجھے بنا ہم اچھا معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔

اﷲ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض نبھانے اور احساس مندی اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

آسیہ روبی

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟
Wain khiftum alla tuqsitoo fee alyatama fainkihoo ma taba lakum mina alnnisai mathna wathulatha warubaAAa fain khiftum alla taAAdiloo fawahidatan aw ma malakat aymanukum thalika adna alla taAAooloo
ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو
And if you fear that you will not be just towards orphan girls, marry the women whom you like – two at a time, or three or four; then if you fear that you cannot keep two women equally then marry only one or the bondwomen you own; this is closer to your not doing injustice.
(4 : 3)
وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحْلَةًۭ ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَىْءٍۢ مِّنْهُ نَفْسًۭا فَكُلُوهُ هَنِيٓـًۭٔا مَّرِيٓـًۭٔا
Waatoo alnnisaa saduqatihinna nihlatan fain tibna lakum AAan shayin minhu nafsan fakuloohu haneean mareean
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا
And give the women their bridal money willingly; then if they willingly give you a part of it, eat (use) it with joy and fruition.
(4 : 4)
وَلَا تُؤْتُوا۟ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ قِيَٰمًۭا وَٱرْزُقُوهُمْ فِيهَا وَٱكْسُوهُمْ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا
Wala tutoo alssufahaa amwalakumu allatee jaAAala Allahu lakum qiyaman waorzuqoohum feeha waoksoohum waqooloo lahum qawlan maAAroofan
اور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو
And do not give the foolish their wealth which is in your custody – those for whom Allah has put you in charge to maintain (look after) – and feed and clothe them from it, and speak kindly to them.
(4 : 5)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply