logo-mini

یکسانیت یا اختلافات

یکسانیت یا اختلافات

*السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ!*

نحمده و نصلي على رسوله الكريم أما بعد
*فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم*
*بسم الله الرحمن الرحيم*

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔
اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر ۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔

سورۃ طٰہ ۔ آیت 25 سے 28

اس سے پہلے میں صرف لکھتی ہی تھی آج پہلی مرتبہ اپنے تاثرات ریکارڈ کرنے کا آغاز کر رہی ہوں، میں نے سوچا آغاز اسی بات سے کیا جائے جو آج امت مسلمہ کی سب سے اہم اور بڑی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
یکسانیت یا اختلافات
اللّه تعالیٰ اپنے بندوں کو کتنے پیار سے حکم فرماتا ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
آؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور آپس میں مت بٹو۔

مجھے اکثر سوچ کر بے حد افسوس ہوتا ہے کہ آج اتنے خداؤں کو ، اور مختلف مذاہب کو ماننے والے سب کے سب آپس میں ایک ہو چکے ہیں، صرف اور صرف مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے،اور مسلمانوں کو بھی آپس میں توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا صدیوں سے زور لگا رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان ہی ہیں جو انتشار کا شکار ہیں، جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیں، جن کا الله بھی ایک ہے آخری رسول ﷺ بھی ایک ہیں، تمام پیغمبروں اور اللّه تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان بھی ایک جیسا، اہم بات قران بھی ایک ہے، جس کے کلام میں تبدیلی بھی  ممکن نہیں، اس اتحاد کی آج سب سے زیادہ ہمیں ضرورت ہے، جس اتحاد کا ہمارا دین ہمیں حکم دیتا ہے، آج اکثر مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کو کافر و مشرک کہہ کر اللّه و رسول اللّه ﷺ کو کس قدر تکلیف پہنچا رہے ہیں، حالانکہ ہمیں تو اللّه و رسول ﷺ نے کافر کو بھی کافر کہنے سے منع فرمایا

حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّه ﷺ نے فرمایا
جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو بہرحال ایک کے اوپر وہ (کفر) لوٹ کے رہے گا، یعنی اگر جس کو کافر کہا ہے اور وہ کافر نہیں تو کہنے والا کافر بن جائے گا،” صحیح مسلم 60 باب بیان حال ایمان من قال لأخيه المسلم يا كافر
جس امت کی بخشش اور محبت کی خاطر اس امت کے پیغمبر و رہبر ﷺ حد سے زیادہ گڑ گڑا کر روتے اور دعا کرتے رہے؟؟؟
سورہ الکھف کی چھٹی آیت اور اسکے علاوہ بھی کئی آیات میں ﷲ تعالیٰ رحمت اللعالمین ﷺ کے پیار کی کیسی انتہا بیان فرماتے ہیں، کہ اپنی جان سے گزرنے والی حالت ہو جاتی تھی؟ سُبْحَانَ اللَّهِ ایک طرف ﷲ تعالیٰ کی ذات اتنی رحمتیں لئے ہوئے، دوسری طرف ہمارے آقا و پیغمبر ﷺ بھی مہربان و پیار برساتے ہوئے، دعاؤں کی انتہا کرتے ہوئے۔۔ الحمدللّٰہ
لیکن جس سے بھی یہ بات کی جائے تو اکثریت کا کہنا اور ماننا یہی ہے کہ بھلائی کو پھیلانے کا ، سنت کو دانتوں سے پکڑنا ہم پر فرض ہے وہ ہمیں سب سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے، اب خود بتائیں کہ سب سے پہلے مسلم ہونا ایمان لانا اور اس پر قائم رہنا ضروری ہے یا جو آخری یا بیچ کے پوائنٹس ہیں جو ہر مسلم ایمان کی طلب بڑھنے کے بعد خود ہی جستجو رکھے گا اور اپنائے گا یا سننا پسند کریگا، سوچئے کہ شروعات ہی اگر ہم آخری پوائنٹ سے کریں گے تو مسئلہ کیسے حل ہوگا؟؟
چلیں آج ہم اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے ہمیں تبلیغ کرنے کا یا دین کو پھیلانے کا طریقہ قرآن میں کیا بیان کیا ہے
ﷲ تعالیٰ فرعون کو سمجھانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں سورہ الطہ میں :-
ﷲ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی راہنمائی کی اور فرمایا:

اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (43) فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى(44)
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کے وہ نصیحت قبول کر ۔

آپ یہ دیکھیے کہ فرعون جیسے سرکش و خدائی کے دعویدار کافر جو اپنے بارے میں کہتا تھا
اے درباریو! میں تو اپنے علاوہ تمہارے لئے کسی رب کو جانتا ہی نہیں۔ [القصص: 38]
اس کو نرمی سے سمجھانے پر کتنا زور دیا گیا ہے تو ہم اپنے ہی مسلم بہن بھائیوں کو کیسے سمجھاتے ہیں ؟

آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں ۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کر لیتا ہے ، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہو جاتا ہے
چلیں آئیں اب یہ دیکھیں کہ ﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر محمد مصطفی ﷺ کو کیا حکم دیا؟؟؟

“لوگوں کو اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیۓ یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور راہ راست پرچلنے والوں سے بھی پوری طرح واقف ہے ” النحل ( 125 ) ۔

سورہ آل عمران آیت ( 159)میں بھی اللہ نے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ

” ﷲ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ نرم دل ہیں اور اگر آپ بدزبان سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے دور بھاگ جاتے آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں.

ایک اور جگہ جب نبی پاک ﷺ کو یہود سے مباہلہ یعنی دین کے معاملے میں بحث و مباحثہ کرنا تھا بڑے بڑے یہود کے علماء اس میں شرکت کرنے والے تھے تو ﷲ تعالیٰ نے فرمایا

سورہ العمران آیت 64

کہہ دو! اے کتابیو! آجاؤ، ایسی بات کی طرف، جو ہم تم میں یکساں ہے، کہ ہم ﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ﷲ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں، پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو : ’’گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں ۔‘

جب اہل کتاب کو یکساں بات کی طرف دعوت دینے کی تلقین کی گئی ہے، اختلافات کی بجائے، تو آپ خود سوچیں کہ آپ تو اپنے ہی مسلم بہن یا بھائی سے ہم کلام ہوتے ہیں، وہ زیادہ آسانی سے آپکی بات سن اور سمجھ سکتے ہیں، پھر اگر کوئی نہ سمجھے تو آپ کا فرض پیغمبروں سے زیادہ تو نہیں۔

ان تمام آیات اور حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ کنفرم ہوتا ہے کہ ہمیں بات کرنی ہے تو نرم لہجے سے ہی کرنی ہے، دلائل و تدبر سے، اچھے لہجے سے، تحمل سے، اچھے سلوک سے، تدبر سے جو بھی برائی دیکھ رہے ہیں ضروری لگے تو اس کو بیان کر دیں اور اس کے بعد دعا کے ساتھ ﷲ پر چھوڑ دیں، دل میں عجز کے ساتھ، کیونکہ اپنے عمل و علم پر غرور اکثر لوگوں کو سخت بنا دیتا ہے، وہ یہی سمجھتے ہیں کہ مد مقابل کافر ہے، اور وہ مومن، یہ اکڑ جب لہجوں میں آجائے تو آپکی بات بے اثر ہو جاتی ہے،انا، غرور و تکبر نے تو شیطان کو کہیں کا نہ رہنے دیا، آپ کا کام صرف بتانا ہے، سوچئے دل سے کہ ہر پیغمبر کا کام بھی صرف پہنچا دینا تھا، تو میں یا آپ کیا چیز ہیں؟ اگر پیغمبر کے اپنے اختیار میں ہدایت دینا ہوتا تو ہمارے پیارے آقا ﷺ اپنے چچا ابو طالب کو باوجود ہر طرح کی کوشش کے اسلام سے محروم نہ رہنے دیتے ایک اور بات یاد رکھیں کہ برائی اور برے عمل سے نفرت کریں، اس انسان سے نہیں، کیا خبر کہ جس شخص کی ہمیں ایک برائی نظر آ رہی ہے اس میں باقی ہر اچھائی ہو اور ہم میں وہ برائی نہ ہو باقی تمام برائیاں ہوں اور آپکا یہ سخت عمل تکبر یا غرور میں شمار ہو جائے، اور ﷲ نہ کرے، آپ سے یہ اچھائی چھن جائے۔

یاد رکھیے میرا ماننا ہے کہ علم، دولت، قدر اور شہرت بہت مشکل سے ہضم ہوتی ہیں”

پیارے نبی ﷺ کی زندگی میں دین میں کوئی گروپ بندی نہیں تھی۔ بعد میں خلفائے راشدین،و  امام حسن و حسین رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے نماز کے طریقے اور باقی معاملات پر روشنی ڈالیں، تو حقیقت واضح ہوجائے، اور ہر مسئلہ بھی حل ھوجائےگا، اب وہ بریلوی۔دیوبندی۔اہل سنت والجماعت۔امام باڑہ ۔ اہلحدیث ۔وغیرہ وغیرہ بن چکے ھیں۔اللہ کا نام مسجد سے ہدف ھوچکا ھے۔۔۔اسکا ذمہ دار کون ھے۔۔جو بھائی نمازی نہیں ھیں ان کو نمازی بنانے کے بجائے ھم نمازیوں کو رفع یدین ۔۔تراویح 8/ 12 /20 رکعات // فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا ھے یا نہیں // پیغمبر نور ھیں یا بشر،  کے نام پر مسلمین کو لڑوا اور مروا رھے ھیں۔۔
ہمارے نبی ﷺ کو کسی نے کفار سے بھی نفرت کرتے نہیں دیکھا تو پھر ہم سب تو آپس میں مسلمان ہیں اور ایک نبی ﷺ کے امتی ہیں- نبی کریم ﷺ کو جتنی بھی تکلیفیں پہچائی گئیں اس کے جواب میں آپ ﷺ نے بد دعا نہیں دعا ہی دیں، اچھے اخلاق سے پیش آئے جسکی وجہ سے دشمن بھی دوست بن گئے-
شاید کہ ہمارے اچھے اخلاق سے متاثر ہو کر کوئی راہ حق پہ آجائے اور جہنم میں جانے سے بچ جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری نفرت کے اظہار سے کوئی اپنی برائی پر مزید پختہ ہوجائے،  آخر میں ایک بات اور کہ اچھے اخلاق سے ہم دشمن کو بھی دوست بنا سکتے ہیں اور برے اخلاق سے دوست کو بھی دشمن بنا سکتے ہیں- ﷲ تعالیٰ مجھے بھی صحیح طور پر دین کی سمجھ اور خاص کر اعمال صالحہ عطا فرمائے- آمین یا رب العٰلمین –
مطلوب دعا۔۔ آسیہ مشتاق

 

یکسانیت یا اختلافات

Asiya Mushtaq

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply