logo-mini

کسی بے گناہ پر تہمت لگانا

کسی بے گناہ پر تہمت لگانا

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!
بہت سی برائیوں کی طرح آج کل ہمارے ارد گرد یہ برائی بھی بہت کثرت سے دیکھنے میں آتی ہے. کہ کتنے ہی نیک اور پارسا لوگ بھی دوسروں پر الزام لگانے میں دیر نہی کرتے.۔
چاہے صرف کسی کے منہ سے ہی سنا ہو. بنا تصدیق کے نہ صرف یقین کر لیتے ہیں، بلکہ اس بات کو مشهور بھی کر دیتے ہیں اور وو بات چاہے کسی عام انسان کی طرف نسبت کرتی ہو یا کسی پارسا اور نیک انسان کی طرف. مگر ایک پل بھی کوئی تصدیق نہی کرنا چاہتا ، نہ ہی الزام لگانے والے کو اپنی صفائی میں بولنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے. اس عمل سے چاہے کوئی عورت بے گناہ زندہ درگور ہو جائے.
بات چاہے کسی کے کردار پر تہمت لگانے کی ہو یا الزام لگانے کی کہ فلاں نے فلاں بات کہی یا فلاں کام کیا، یا آپکے خلاف ایسا کہا وغیرہ وغیرہ. اور ان میں سے کچھ بھی سن کر قریبی رشتہ دار تک بھی تصدیق کرنے کی کوشش نہی کرتے اور نہ ہی اگلے کو بولنے کا موقع فراہم کرتے ہیں.
یہ کہہ کر کہ ہم سب جانتے ہیں ،خاموش کرا دیتے ہیں.
. کیا یہ عمل ایک مسلمان کو زیب دیتا ہے؟ آیے دیکھیے اس بارے میں قرآن کیا فرماتا ہے:
ان آیات میں حضرت عائشہ رضی االله عنہا کی پاکیزگی بیان فرمائی گئی ہے. ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت رضی االله عنہ و صحابہ رضی االله عنہ کے خلاف کوئی بدگمانی کفر ہے. اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان عورت یا مرد کے لئے اپنے دل میں بنا ثبوت یا گواہی کے بدگمانی نہ پالیں. اور نہ ہی کوئی بہتان لگایئں. یہ تمام احکام ہم سب پر ایک دوسرے کے لئے فرض ہیں. جن کو ادا کیے بنا ہم مسلمان نہیں ہو سکتے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے،میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین

والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَٱلَّذِينَ يَرْمُونَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا۟ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَٱجْلِدُوهُمْ ثَمَٰنِينَ جَلْدَةًۭ وَلَا تَقْبَلُوا۟ لَهُمْ شَهَٰدَةً أَبَدًۭا ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ
Waallatheena yarmoona almuhsanati thumma lam yatoo biarbaAAati shuhadaa faijlidoohum thamaneena jaldatan wala taqbaloo lahum shahadatan abadan waolaika humu alfasiqoona
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں،
And those who accuse chaste women and do not bring four witnesses to testify – punish them with eighty lashes and do not ever accept their testimony; and it is they who are the wicked.
(24 : 4)
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًۭا كَثِيرًۭا وَنِسَآءًۭ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًۭا
Ya ayyuha alnnasu ittaqoo rabbakumu allathee khalaqakum min nafsin wahidatin wakhalaqa minha zawjaha wabaththa minhuma rijalan katheeran wanisaan waittaqoo Allaha allathee tasaaloona bihi waalarhama inna Allaha kana AAalaykum raqeeban
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
O mankind! Fear your Lord Who created you from a single soul and from it created its spouse and from them both has spread the multitude of men and women; fear Allah in Whose name you claim (your rights from one another) and be mindful of your blood relations; indeed Allah is always seeing you.
(4 : 1)
وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا
Waman yaksib khateeatan aw ithman thumma yarmi bihi bareean faqadi ihtamala buhtanan waithman mubeenan
اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا،
And whoever commits a mistake or a sin, then blames it on someone innocent has indeed burdened himself with infamy and a manifest crime.
(4 : 112)

 

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply