logo-mini

کر بھلا ہو بھلا انت بھلے کا بھلا

*کر بھلا ہو بھلا انت بھلے کا بھلا*

اَلسَلامُ و عَلَيْكُم وَرحْمَةُ اﷲ وَبَرَكاتُہ

ہمارے دین نے قرآن اور حدیث میں جگہ جگہ دوسروں کو آسانی دینے ، دوسروں کی فلاح و بہبود پر اور رحم دلی پر اتنا زور دیا ہے، لیکن ہم کرتے کیا ہیں؟
رسول اﷲ ﷺ نے تو راستے سے ایک جھاڑی یا پتھر یعنی کوئی بھی تکلیف دہ یا رکاوٹ والی چیز ہٹانے پر بھی اجر کی خبر دی ہے حتیٰ کہ
ایک مسکراہٹ بھی صدقہ ہے
اخلاق و کردار کا درس دینے والے دین کو ماننے والے ہو کر ہم اپنے اعمال پر کبھی نظر نہیں کرتے اپنے ذرا ذرا سے عمل یا غلطی سے کسی کو کتنا دکھ یا تکلیف دیتے ہیں خدارا سوچیں ذرا، رزق جو نصیب سے ملنا ہے اسکے لئے دوڑیں لگانے میں پاگل ہو رہے ہیں،خود غرضی اور مفاد کی خاطر کتنی ہی گری ہوئی یا غیر اخلاقی حرکتیں کر جاتے ہیں اسکا احساس بھی نہیں کرتے، اکثر کو سزا ملنے پر بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ فلاں عمل پر اﷲتعالیٰ نے سزا دی ہے تاکہ ہم سمجھیں اور ازالہ کریں
یتیم کے سر پرست بن جائیں یا کم از کم اس کو شفقت سے بات کرنے والے اور ضرورت پوری کرنے والے بن جائیں
کسی بیوہ کا سہارا بن جائیں
الٹا یتیم اور غریب کو غلط نظر سے دیکھا جاتا ہے، اسلام تو ملازم کی ضروریات پوری کرنے اور رحم دلی کا برتاو کرنے کا حکم دیتا ہے انکے سامنے نمود و نمائش سے سختی سے منع کرتا ہے تاکہ انکو احساس کمتری نہ ہو، لیکن یہاں بھی الٹ،
انکے سامنے بہترین کھانا پہننا اور انکو نہ دینا، بلکہ اکثر اپنے سے غریب لوگوں کے سامنے شوخیاں مار مار کر یہ بھول جاتے ہیں کہ سورہ الکھف میں جب ایک شخص اپنے مال و اولاد پر اترا رہا تو اسکو کیسے سزا ملی اور اﷲنے کیسے سختی سے ایسا کرنے سے روکا؟؟
پھر ہمارا دین کہتا ہے بیمار کی تیمار داری کرو، عمل کرکے بھی پیارے آقا صلی اﷲعلیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اﷲعنہ بتا گئے لیکن ہم ان سے الٹ بیمار کی بیمار پرسی کرنے جاتے ہیں تو اسکے اہل خانہ جن کا نجانے پہلے ہی بیمار کی خدمت سے تھکن سے برا حال ہو، مالی اخراجات بھی متاثر ہوں، جاکر الٹا کھانے پینے میں مشغول ہوجاتے ہیں اور غلط سلط مشوروں کے ذریعے بیمار کے سر درد اور ٹینشن میں اضافہ، جبکہ مشورہ ایک امانت ہے بہت سوچ سمجھ کر دینے والی چیز۔ آزمودہ نسخہ اسکو بتائیں وہ بھی اگر پختہ یقین ہو کہ وہ اسکو فائدہ دے گا
کسی میت پر جا کر میت کے لواحقین کو پرسا دینے اور میت کو ایصال ثواب پہنچانےکی بجائے گلے لگا لگا کر مزید رلایا اور ہلکان کیا جاتا ہے،
*کوئی پریشان ہو اور آپ سے ذکر کرے، تو اسکی پریشانی کم کرنے کے لئے اسکی ہمت،حوصلہ بڑھانے اور اسے تســـلّی دینے کی بجائے اسکی ہمت توڑی جاتی ہے، اوہو آپکے شوہر یا ساس وغیرہ کو ایسا نہیں کرنا چاہے تھا، آپکا بیٹا اور بہو کتنے بے حس ہیں، میرے تو اتنے اچھے ہیں ایسے کرتے ویسے کرتے وغیرہم اسکی ذرا سی رنجش یا پریشانی کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ کسی کی یہ ذرا سی بات پر اگلے کا گھر یا رشتہ بھی ٹوٹ سکتا ہے، مزید بیمار ہوسکتا۔ یہ ذرا سی دل لگی؟؟؟

پلیز آپکو غلط بھی لگے دکھ بھی ہو تو بھی اسکا دل صاف کرنے کے لئے اسکو سمجھاؤ کوئی بات نہیں گھبراؤ مت اﷲکے سپرد کردو، خوش رہو اﷲآپکے ساتھ ہے نہ ، آپ اپنی طرف سے ٹھیک رہو، ایک در بند ہوا نہ؟ دس در انشاء اﷲکھل گئے، وہ رازق ہے، مایوسی گناہ ہے جتنا زیادہ یقین سے دعا اور کوشش کرو گے اتنا ہی بہتر ہوگا، ﷲ کے ہر کام میں مصلحت ہے،
آپکے اس طرح کا ایک جملہ بھی دوسروں کی زندگی سنوارنے کے کام آئے گا آسانی پیدا کرے گا، سوچیں ذرا اجر کس قدر ملے گا؟؟ خدارا جو بھی کریں اﷲ کے ساتھ مخلص ہو کر کریں وہ سںن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے ہر پل یہی سوچ کر ایک جملہ تک بھی ادا کرنے سے پہلے محتاط ہو جائیں، کیونکہ اﷲکے ہاں ازالہ یا اجر آپکو ہی ادا کرنا ہے
آپ اور کچھ نہیں کر سکتے کم از کم اچھے الفاظ میں تسلی ہی دے دیجئے .
دوسروں کی زندگی میں خوشی کا باعث بنیں، غموں کو دور کرنے کی کوشش کریں
کسی کی تکلیف و بیماری کو دور کردیں‘ کسی کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کردیں
کسی کی بھوک کو ختم کرنا
بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی سی باتیں ہیں لیکن جب کوئی تکلیف یا مشکل میں ہو تو اس کے لئے مرہم کا کام کرتے ہیں ایسے الفاظ، لیکن ہمارے یہاں تو بلکہ اس سے الٹ کرتے ہیں زیادہ تر لوگ ایسی ہمدردی کرتے ہیں اوہو آپکے شوہر یا ساس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، میرے تو ایسے ہیں وغیرہم، بیمار پرسی کو جا کے غلط سلط مشوروں سے الٹا مزید بیمار کرتے ہیں، وہاں جا کے دعوت سمجھ کر بیمار کے اہل خانہ پر مزید بوجھ ڈالتے ہیں۔
ہمیں ہر قیک کو تسلی کے لئے بہترین الفاظ کہنے چاہئے کہ اﷲکے ہر کام میں مصلحت ہے، اﷲصبر کرنے پر اس سے بہتر عطا فرمائے گا، ہر کاموں کی رجوع اسی کی طرف ہے، اِنا لِللّہِ وَ اِنا اِلَیہِ رَجِعُون
اﷲتعالیٰ ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
مطلوب دعا آسیہ روبی

#آسانیاں #بھلائی #فلاح #رہنمائی #خوشیاں #asaniam #

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply