logo-mini

مردوں کا پردہ

مردوں کا پردہ

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

“پردہ” یعنی تحفہ ، قیمتی اور عزیز چیزوں یا پھلوں کو ہمیشہ اہتمام سے کور کیا جاتا ہے، ملکہ کے سر پر تاج لازم ہے، تو مسلم عورت کے سر پر تاج سے بڑھ کر دوپٹہ، مسلم مردوں کی بھی تو شان و وجاہت ضروری تھی نہ؟؟؟؟ تو

“پردہ” کا حکم اللہ پاک نے شروع ہی مردوں کے پردہ کی بات سے شروع کیا

قرآن مردوں کو پردہ کے “5” احکام بتاتا ہے تو عورت کو “7” احکام

تو ہم کون ہوتے ہیں قرآن حکیم سے مختلف بات کرنے والے ؟؟؟  اللہ پاک سے مختلف بات کرنے والے؟؟؟

عجب بات ہے نہ؟؟ یہاں مردوں کے پردے کی بات سن کر الٹا ہنستے ہیں

یہ تو ہر مرد بچپن سے ہی جانتا ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ھے مگر یہ بات سو میں سے ایک مرد ہی جانتا ہے کہ لڑکوں کے لیے بھی پردے کا حکم ہے

مسلمان مردوں اور عورتوں کی نظر کا پردہ : نظر کا پردہ سے مراد حیا ہے،جسکی نظر میں پردہ حیا ہے ، حیا عورت و مرد دونوں پر فرض ہے، مگر ہمارے معاشرے میں حیا اور پردہ کو صرف اور صرف عورت کیساتھ ہی منسوب کیا جاتا ہے۔

کہ اپنی نظر میں پردہ ہونا چاہئے۔دیکھا دیکھی بہت سے مرد بھی یہی کہتے نظر آتے ہیں۔

نظر میں صرف حیا ہونا ضروری ہے؟؟؟؟

پھر چاہے وہ تاڑتا رہا، نظر میں حیا ضروری ہے پھر چاہے عورت بنا کپڑے نکل جائے

نتیجتاً مسلم معاشرہ پردہ و حیا سے دور ہوتے ہوتے بے حیائی کا شکار ہوتا جا رہاہے

بیشک نظر کا پردہ تو نصیب والوں کو میسر ہوتا ہے لیکن

اگر نظر کا پردہ کافی تھا تو قرآن میں نگاہیں جھکا کر رکھنے کے ساتھ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم کیوں دیا؟
اور تمام امولمومنینؓ میں تو سب سے زیادہ نگاہ کا پردہ موجود تھا پھر انہوں نے ہمیشہ پردہ کی اسقدر پابندی کیوں کی؟
اکثر لوگ جواب دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں جی ،کچھ نہیں ہوتا، سب چلتا ہے، ایک میرے سے کیا ہوگا

یہ جملے اس معاشرے کی بگاڑ کا سب سے اہم سبب ہیں
یہی ذرا ذرا سا کرتے کرتے ہم آج ہمارہ معاشرہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سر ڈھانپنا تو دور جسم کی بے جا نمائش ہرطرف دیکھنے میں آتی ہے،جو عورت ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے خوبصورت رشتے کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اشتہار اور بازار کی زینت بنی نظر آتی ہے۔کھلونا بنا دیا گیا ہے عورت کو یا تماشہ، خالصتاً مردوں کی چیزوں حتیٰ کہ تعلیم و اسناد کو بھی عورت کی نمائش کے بنا نامکمل تصور کیا جاتا ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ عورت پردہ نہیں کرتی، مرد کی نظر عورت کے پردے سے بھی پہلے اور ضروری تھی تو ہی پاک پروردگار نے یہ حکم دیا،

مگر افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں کے پردے کی فکر رہتی ہے اور اس فکر میں مرنے مارنے پر بھی تیار رہتے ہیں مگر اپنے پردے کا پتا  نہیں۔میرے بھائیو! آپ کو بعد والی آیت کا تو پتا ہے مگر پہلے والی کا سرے سے پتا ہی نہیں!! عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے،

اللہ نے ہر چیز کا توازن برقرار رکھنے کے لئے مرد و عورت دونوں میں یہ ذمہ داریاں بانٹ دیں، مگر ہندو و سکھ کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے اس معاشرے نے پورا بوجھ عورت پر لادنا شروع کر دیا، بیشتر ذمہ داریوں کی طرح یہ ذمہ داری بھی عورت پر حکم سے زیادہ لادی جانے لگی،

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ عورتیں بغاوت پر اتر کر اپنا نقصان کرنے لگیں، تو کچھ زیادہ پسنے لگیں

فیشن اور سٹائل کہتے کہتے بے حیائی کو اوڑھ کر لِبرل اور بروڈمائنڈڈ کا نام دینے والے اپنے اللہ کے احکامات کو فراموش کر کے صرف غیر مذہب کی تقلید کرنے والے کبھی سوچتے نہیں، خوبصورت دکھنے کے لئے تو اسلامی اقدار ہی ہیں، غیر مذہب تو خود مسلم عورتوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

اور مجھے پکا یقین ہے کہ آپ کے پردہ کرنے پر معاشرے پر بہت اچھا اثر پڑے گا برائیوں میں کمی آئے گی اور لڑکیاں بھی شوق سے پردہ کریں گی . یہ بات میں اس لیے اتنے یقین سے کہہ رہی ہوں کہ میں نے اکثر لڑکیوں کے منہ سے پردہ نا پسند کرنے یا پردہ  نہ کرنے پر بہانے کے طور پر یہ الفاظ سنے ہیں کہ لڑکے اس طرح زیادہ گھورتے ہیں, زیادہ اٹریکٹ ہوتے ہیں ,زیادہ تنگ کرتے ہیں, حالانکہ کسی بھی باپردہ لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے تو اوباش سے اوباش کو بھی شرم آنی چاہیے بلکہ کسی بھی لڑکی کو تاڑنے یا گھورنے کا حق کسی نے بھی آپکو نہیں دیا. وہی لڑکے اپنے گھر کی کسی عورت کی طرف کسی بھی مرد کا دیکھا جانا پسند نہیں کرتے, اس کے لیے اپنے گھر کی عورتوں پر بیجا پابندیاں بھی لگاتے ہیں اور باحیا ہونے کے باجود شکوک و شبھات سے بھی نوازتے ہیں, اس سے آدھی محنت اگر وہ اپنی نگاہ اور اپنے پردے کے لیے کرلیں تو انکی عورتوں کی حفاظت انشاءاللہ خود محفوظ ہو جائے گی. اہمیت اسکی امر کی ہے کہ ہم پہلے اپنی کردار کشی کریں, اپنے نامہ اعمال کی پہلے فکر کریں پھر دوسروں کی کردار سازی پر عمل در عمل کا سوچیں. کیونکہ روزِ آخرت نفسا نفسی کا عالم ہوگا, کوئی نفس کسی دوسرے کو نہیں پہچانے گا. کوئی اپنی چھوٹی سی نیکی بھی کسی دوسرے کو دینا نہ چاہے گا. تو کیوں نہ پہلے اپنی فکر کرلی جائے؟ مرد اپنی نگاہوں کی حفاطت کریں اور عورتیں مردوں کے لئے آزمائش کا سامان نہ بنیں بلکہ پردہ میں رہیں تو معاشرے سے گھناؤنے افعال ختم ہو سکتے ہیں۔ سکون تو بس دین کی تعلیمات میں ہی ہے، کسی اور جگہ حل ڈھونڈنا اپنے غلط عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بہانے تلاش کرنے کے مترادف ہے. مومن وہ ہے جس کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ عورتیں بھی فتنہ ہیں اگر شیطان کی راہ پر چلیں، اور مرد بھی فتنہ ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے، میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا۟ مِنْ أَبْصَٰرِهِمْ وَيَحْفَظُوا۟ فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ
Qul lilmumineena yaghuddoo min absarihum wayahfathoo furoojahum thalika azka lahum inna Allaha khabeerun bima yasnaAAoona
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے،
Command the Muslim men to keep their gaze low and to protect their private organs; that is much purer for them; indeed Allah is Aware of their deeds.
(24 : 30)
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَٰرِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ءَابَآئِهِنَّ أَوْ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَآئِهِنَّ أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوْ نِسَآئِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيْرِ أُو۟لِى ٱلْإِرْبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا۟ عَلَىٰ عَوْرَٰتِ ٱلنِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Waqul lilmuminati yaghdudna min absarihinna wayahfathna furoojahunna wala yubdeena zeenatahunna illa ma thahara minha walyadribna bikhumurihinna AAala juyoobihinna wala yubdeena zeenatahunna illa libuAAoolatihinna aw abaihinna aw abai buAAoolatihinna aw abnaihinna aw abnai buAAoolatihinna aw ikhwanihinna aw banee ikhwanihinna aw banee akhawatihinna aw nisaihinna aw ma malakat aymanuhunna awi alttabiAAeena ghayri olee alirbati mina alrrijali awi alttifli allatheena lam yathharoo AAala AAawrati alnnisai wala yadribna biarjulihinna liyuAAlama ma yukhfeena min zeenatihinna watooboo ila Allahi jameeAAan ayyuha almuminoona laAAallakum tuflihoona
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
And command the Muslim women to keep their gaze low and to protect their chastity, and not to reveal their adornment except what is apparent, and to keep the cover wrapped over their bosoms; and not to reveal their adornment except to their own husbands or fathers or husbands' fathers, or their sons or their husbands' sons, or their brothers or their brothers' sons or sisters' sons, or women of their religion, or the bondwomen they possess, or male servants provided they do not have manliness, or such children who do not know of women's nakedness, and not to stamp their feet on the ground in order that their hidden adornment be known; and O Muslims, all of you turn in repentance together towards Allah, in the hope of attaining success. (It is incumbent upon women to cover themselves properly.)
(24 : 31)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply