logo-mini

ٹائم اینڈ سپیس کی حقیقت

ٹائم اینڈ سپیس کی حقیقت

السلام علیکم دوستو!

  وقت کیا ہے؟ وقت یا ٹائم اینڈ سپیس کا مطلب جاننے سے پہلے آپ قارئین سے میری درخواست ہے کہ اپنے ذہنوں سے وقت اور گھڑی جیسی باتوں کو تھوڑی دیر کے لئے نکال دیں۔
زمان و مکان یا ٹائم ٹریول جسکو انگریزی میں ٹائم اینڈ سپیس کہتے ہیں اس کی اصل تعریف کیا ہے؟
“ایک عارضی اور 3 مقامی ہم آہنگی کاایک ایسا نظام جس کے ذریعے کوئی جسمانی چیز یا واقعہ واقع ہو سکتا ہے۔”
انسانی ذہن میں پیدائشی اور فطری اول سوال یہی آتا ہے کہ آخر انسانی تاریخ کی ابتدا کیا تھی؟ صرف انسان نہیں ہر چیز کی ابتدا کیا ہے۔انسان جب یہ سوچتا ہے کہ اللہ کب سے ہے اور قیامت کے بعد کی زندگی ابدی ہوگی۔اور نجانے کب تک ہوگی تو وقت کا تعین کرنا ہمارے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارا ذہن وقت کی ایک ہی شکل دیکھتا ہے جس طرح ایک گھڑی یا صبح شام کی تصویر جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وقت کی اصلیت کوئی نہیں یہ صرف ایک خیال اور تجربے کا نام ہے۔جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا۔ دراصل وقت کا تعلق ہم نے اپنی مادی زندگی سے جوڑ لیا ہے۔اب میں آپکو ایک مثال سے سمجھانا چاہوں گی کہ ٹائم اینڈ سپیس سے باہر کی دنیا کیا ہوتی ہے۔
آپ اپنا منہ بند کر کے کیا یہ الفاظ بول سکتے ہیں”میں عقلمند ہوں؟”
اب کیا آپ اپنے دماغ میں سن پائے جو آپ نے بولا؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ مادی زندگی سے نکل کر باطنی طور پر بول بھی سکتے ہیں اور سن بھی سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ اپنی آنکھ بند کرکے سب کچھ دیکھ بھی سکتے ہیں اور محسوس بھی کر سکتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آپ 5 فزیکل حسیات سے عاری ہو گئے ہیں اور یہی حسیات آپ اس مادی جسم سے نکل کر بھی پا سکتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ انسان مر کیوں جاتا ہے؟ صرف روح نکل جانے سے موت کیوں واقع ہو جاتی ہے؟ جب یہ مادی دنیا کی مادی مٹی اپنی حرکات بند کر دیتی ہے تو انسان کی روح اپنا سفر شروع کرتی ہے جو کہ کوئی مادی وجود نہیں رکھتی۔ وہ ایک روشنی ہے جس کا وقت اور زمانے سے کوئی تعلق نہیں۔
آئیے اب سائنس کی رو سے ٹائم اینڈ سپیس کو دیکھتے ہیں۔ 1905ء میں البرٹ آئن سٹائن نے طے کیا کے فزکس کے قوانین تمام غیر محرکات مبصرین کے لیے یکساں ہیں مگر ایک خلا میں روشنی کی رفتار تمام مبصرین کی حرکت پر مبنی تھا۔ یہ ایک خاص تنصیب کا اصول تھا۔
روشنی کی رفتار کچھ یوں ہے۔

299 792 458 m / s

اس سائنس سے پہلے اسلام بہت سی مثالیں اس متعلق دے چکا ہے۔ اب ہم آتے ہیں معراج شریف کے واقعے پر ۔ صرف دو لمحوں میں یہ سفر کس طرح ممکن تھا۔ براق جس کا اخذ برق ہے اس کا مطلب بجلی ہوتا ہے اور بجلی ایک تیز روشنی ہے اور روشنی کی رفتار سے کوئی چیز آج تک سفر نہیں کر پائی اور  وہ براق آپ کو کہاں کہاں کی سیر کروا کر لایا۔ اورآج اس بات کو سائنس نے بھی قبول کیا ہے اور وہ خود بھی بہت کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا آلہ یا مشین بنائی جائے جس سے مادے کو روشنی میں اور روشنی کو مادے میں تبدیل کیا جا سکے۔

اس طرح حضرت حضرت سلیمان کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے

یعنی کہ صرف ایک نظر پھیرنے کے لمحے میں ہی وہ تخت لے آیا گیا جو کہ 900 میل کی دوری پر پڑا تھا۔

یہ ہے ٹائم اینڈ سپیس کی تشریح۔ امید ہے کہ آپ بھی اس معلومات سے

مستفید ہوئے ہوں گے۔ اللہ کے حفظ و امان میں۔

سارہ آصف

Umme Yahya

Article writer. Masters in English. Content writer.


2 comments

  • Ma Sha Allah, so informative and awesome article, really admire able , Jazak Allah ul Khair kasiran kasira

    • Umme Yahya-
    • September 26, 2018 at 1:28 am-
    • Reply

    Thanks a lot. I am nothing but what Allah has given me a little from His knowledge.

Leave a Comment

Leave a Reply