logo-mini

نمرود کی عمارت اور برج دوبئی

نمرود کی عمارت اور برج دوبئی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نمرود بن کنعان نے (جو روئے زمین پر ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں سب سے بڑا بادشاہ تھا) کابل میں بہت زیادہ اونچی ایک عمارت بنوائی
جس کی اونچائی پانچ ہزار گز تھی یعنی 4572 میٹر جبکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی اونچائی 397 میٹر تھی اور برج دبئی 828 میٹر بلند ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اس وقت غیر جدیدیت اور پرانے دور میں بھی برج دبئی سے کئی گناہ بلند عمارت کس طرح تعمیر کیسے کروائی
آج ہم برج دوبئی کو دیکھ کر ہی حیران ہوتے ہیں کہ اس قدر بلند وبالا؟؟
جبکہ زمانہ اتنا ترقی یافتہ ہو چکا ہے ہم کتنا آگے جاچکے ہیں ٹیکنالوجی کس قدر ایڈوانس آچکی ہے لیکن میں آٹھ، نو سالوں سے یہ سوچ کر حیران ہوتی ہوں کے نمرود کے زمانہ تو ہم سے بھی زیادہ ترقی یافتہ زمانہ تھا، یہ پڑھ کر آپ میرا مذاق اڑائیں گے اور ہنسیں گے
میں بھی ان آیات کو پڑھ کر یہ سوچتی اور حیران ہوتی تھی
نمرود کی عمارت کا جو اس نے اللہ تعالیٰ سے (نعوذباللہ) جنگ کرنے کے لئے بنائی جس پر چڑھ کر وہ اللہ اور فرشتوں سے جنگ کرنا چاہتا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اس کو دعوتِ حق پیش کی تو اس نے ہامان سے کہا کہ ایسی عمارت یا مینار بناؤ جس پر چڑھ کر میں فرشتوں اور اللہ سے جنگ کر سکوں ہامان نے پہلی بار اینٹ ایجاد کی اور عمارت تعمیر کی، جب وہ عمارت تعمیر ہوگئی تو اللہ نے اس کو تباہ کر دیا، تمام تعمیر کرنے والوں سمیت ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا،
ورڈ ٹریڈ سینٹر 11 تاریخ 9 نواں مہینے کو تباہ ہوئی اس کی منزلیں بھی 110 تھیں، اور سورۃ التوبۃ سپارہ-11 اور آیت نمبر 110

وہ عمارت بھی ہمیشہ کفار کے دل میں کھٹکتی رہی ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی دی ان کے دل میں آج تک کھٹک رہی ہے یہ آیت اس عمارت کے متعلق تھی لیکن قرآن ہر زمانے کی وضاحت کرتا ہے

اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللھم آمین

یا رب العالمین

مطلوب دعا آسیہ مشتاق (روبی )

كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Kaallatheena min qablikum kanoo ashadda minkum quwwatan waakthara amwalan waawladan faistamtaAAoo bikhalaqihim faistamtaAAtum bikhalaqikum kama istamtaAAa allatheena min qablikum bikhalaqihim wakhudtum kaallathee khadoo olaika habitat aAAmaluhum fee alddunya waalakhirati waolaika humu alkhasiroona
جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد سے زیادہ، تو وہ اپنا حصہ برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے ان کے عمل اکارت گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں
Like those who were before you – they were mightier than you in strength, and had more wealth and children than you; so they spent their portion – you spent your portion just as those before you spent their portion and you fell into shame (sin) like they had fallen into shame; their deeds have been wasted in the world and in the Hereafter; it is they who are the losers.
(9 : 69)

لَا يَزَالُ بُنْيَٰنُهُمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
La yazalu bunyanuhumu allathee banaw reebatan fee quloobihim illa an taqattaAAa quloobuhum waAllahu AAaleemun hakeemun
وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
The building which they erected will constantly keep disturbing their hearts unless their hearts are torn to pieces; and Allah is All Knowing, Wise.
(9 : 110)

Asiya Mushtaq

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


2 comments

    • Nazneen jamil-
    • October 4, 2018 at 7:41 pm-
    • Reply

    V. Informative post…. Jazzak Allah ul khair

    • جزاکم بالخیر کثیرا کثیرا

Leave a Comment

Leave a Reply