logo-mini

مونچھیں اور دین اسلام

مونچھیں اور دین اسلام

مونچھیں اور دین اسلام
عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر ‌رضی ﷲ ‌عنہما سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔
Sahih Muslim#602
نیز ‏رسول الله ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اپنی مونچھیں نہ کاٹے، وہ ہم میں سے نہیں!”
سنن نسائی 5050
(سنن نسائی 13؛ جامع ترمذی 2761؛ مسند احمد 8217، 8185)
“مونچھیں خوب کتروالیا کرو، اور داڑھی کو بڑھاؤ.”
صحیح بخاری 5893
(نسائی 5228، 5048,
8191؛ السلسلة 414)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ﷲ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ﷲ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصاریوں کے عمر رسیدہ لوگوں کے پاس تشریف لائے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں، آپ ‌صلی ﷲ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے انصاریوں کی جماعت! اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کیا کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔ انہوں نے کہا: اے ﷲ کے نبی! اہل کتاب تو شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنا کرو اور تہبند بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے ﷲ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم ‌صلی ﷲ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے ﷲ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں خراشتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ﷲ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤاور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Musnad Ahmed#7913
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے ، رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں فطری ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف کے بال مونڈنا ، مونچھیں کاٹنا ، ناخن تراشنا اور بغلوں کے بال اکھیڑنا
Sunnan e Nisai#9
بیحد افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہمارے وطن کو آزاد ہوئے 73 سال ہوچکے لیکن آج بھی اسلام کے نام پر بننے والے اس وطن کے باشندے ذہنی طور آزاد نہیں ہوئے، ہندووانہ رہن سہن، رسومات کو دین اسلام کے احکامات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
آسیہ روبی

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply