logo-mini

مذاق کرنا اور مذاق اڑانا

#مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں بہت فرق ہے، مذاق کی لمٹس کو یاد رکھیں اور مذاق میں بھی کبھی جھوٹ نہ بولیں تو مذاق بہت اچھی بات ہے، مذاق کی دین میں اجازت کو رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنی سنت و حدیث سے واضح کردیا،
ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نے پوچھا کہ کیا بوڑھی عورتیں بھی جنت میں جائیں گیں، فرمایا نہیں، عورت رونے لگی، پھر فورا فرمایا کیونکہ سب عورتیں جوان ہوکر جنت میں جائیں گی
یعنی مذاق میں بھی جھوٹ اور دل آزاری نہ ہو کا ہمیشہ خیال رکھتے
ایک صحابی تھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کے مجھے بہت پریشانی ہے بڑے حالات ہیں مجھے ایک اُونٹ دے دیجیے آپ، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے ٹھیک ہے میں تمھیں ایک اُونٹ کا بچہ دیتا ہوں اُن صحابی نے کہا اﷲ کے رسول پالنا، سنبھالنا، بڑا کرنا پھر کام آئے گا ضرورت مجھے ابھی ہے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر بھی میں تمھیں ایک اونٹ کا بچہ ہی دونگا لیکن انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ مجھے دے دیجیے لیکن بہتر ہوتا کے آپ مجھے اُونٹ دے دیتے تاکہ میرے کام آتا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مُسکرائے حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم⁦ کے دانت مبارک نظر آئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم⁦     نے بڑا اونٹ ہی دیا اور فرمایا ہر بچہ اُونٹ کا ہی بچہ ہوتا ہے اور اس صحابی کو بھی خوشی ہوئی اور دوسرے صحابہ بھی مسکرئے، چھوٹا بچہ اور بڈھا بھی اُونٹ ہو تو وہ بھی اُونٹ کا بچہ ہی ہے اور اسی طرح ہمیں مزاق و شگفتگی کی بہت عمدہ مثالیں اپنے دین اسلام میں ہی مل جاتی ہیں۔ ’’ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ رضی اﷲ عنہم اکٹھے بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے اور کھجوروں کی گٹھلیاں سب اپنے سامنے رکھتے جا رہے تھے لیکن حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنی گھٹلیاں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی گھٹلیوں میں رکھ رہے تھے۔ جب سب کھا چکے تو حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتے ہیں سب سے زیادہ کھجوریں کس نے کھائیں تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا یہ بھی دیکھئے کہ گھٹلیوں سمیت کھجوریں کون کھا گیا۔۔۔؟ ایک مرتبہ خلفاء راشدین میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کہیں اکٹھے تشریف لے جا رہے تھے درمیان میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تھے اور دائیں بائیں دونوں اصحاب تھے۔۔۔۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا قد مبارک دونوں کی نسبت قدرے چھوٹا تھا۔۔۔ سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مزاحاً ارشاد فرمایا : حضرت علی رضی اﷲ عنہ ہمارے درمیان ایسے معلوم ہو رہے ہیں جیسے لفظ لَناَ میں ن ہوتا ہے۔ اس پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جواباً مزاح فرماتے ہوئے بڑا پیارا جواب ارشاد فرمایا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر درمیان سے ن کو نکال دیا جائے تو لا رہ جاتا ہے یعنی باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔۔ اور بہت سی حدیث نبوی صلی اﷲ ⁦ ایسی ملتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مذاق ایسا ہونا چاہیے جس میں کسی کو جسمانی ذہنی، جانی یا مالی عار نہ ہو اور مذاق کرنے یا مذاق اُڑانے کا فرق بھی معلوم ہونا چاہیے۔۔ آسیہ روبی

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply