logo-mini

چاند رات اور شیطان کی رہائی

السَّـــــــلاَمُ و عَلَيــْــكُم وَ رَحْمَةُ اﷲ و برکاتہ
اکثر لوگ حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ رمضان میں شیطان تو قید پھر برائیاں کیوں؟

 دوسرا چاند رات کو اس کی رہائی کا اتنا شاندار استقبال دیکھ کر ہر خاص و عام سمجھ سکتا ہے کہ یہ اس کا انتقام ہے

ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: “جب رمضان شروع ہو تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے” ۔ صحیح بخاری: (3277)

ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی ایک یہ بھی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہو تو شیاطین اور سرکش جن جکڑ دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا، جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں کوئی دروازہ بھی ان میں سے بند نہیں رہتا۔۔۔) الحدیث، ترمذی: (682) ابن ماجہ: (1642) اسے البانی رحمہ اللہ نے “صحیح الجامع”: (759) میں صحیح قرار دیا ہے۔

شیاطین کی طرف سے ملنے والی اذیت اور وسوسوں میں کمی آتی ہے، اور ان کی سرگرمیاں غیرِ رمضان کے مقابلے میں رمضان کے اندر بہت محدود ہوتی ہیں، اور سرکش شیطانوں کے جکڑے جانے کی دلیل یہ ہے کہ رمضان میں گناہگار لوگ بھی اطاعت گزاری میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور اپنی شہوانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، یہ ایک مشاہداتی واضح دلیل ہے حقیقت ہمیشہ دیکھنے میں آئی ہے کہ رمضان میں عام دنوں کی نسبت عبادات، و نیکیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے، لوگوں کو گمراہ کرنے کے واقعات اور شر میں کمی ہوجاتی ہے۔ شیاطین دیگر مہینوں میں لوگوں کو گمراہ کر کے بہت سی نیکیوں سےان کا منہ موڑ دیتے ہیں، جبکہ رمضان میں ان کے جکڑے جانے سے لوگ اطاعت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں

شیطان کے رمضان میں قید کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم اس کے بنا بھی فرشتے نہیں، نہ پاک و صاف ہیں
شیطان کو قید کیا جاتا ہے مگر صرف ایک ماہ

باقی گیارہ مہینے وہ اپنی لگاتار کوششوں سے انسان کو خوب ٹرینڈ کردیتا ہے
اور اس کے نفس کو شیطان بنانے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑتا تو ماہ مبارک میں
سرکش شیطان بھلے قید کردیا جاتا ہے مگر
سرکش نفس آزاد ہی رہتا ہے
نفس کو کنٹرول کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں
ایسے عادی نفس کو بہکانے یا ورغلانے کے لئے شیطان کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی
ایسا نفس خود ایک شیطان بن چکا ہوتا ہے، کوئی کم کوئی زیادہ ، کوئی چھوٹا شیطان تو کوئی بڑا شیطان،

شیطان نے ورغلانے کی طاقت اﷲ سے مانگی تھی، اس کو وہ ملی
انسان نے بچنے کی طاقت اور مدد مانگی، ﷲ کو راضی کرنے میں کامیابی مانگی
اﷲ نے انسان کو یہ خوبی دے دی، توبہ کی لازوال نعمت بھی عطا فرما دی
تو دونوں میں قیامت تک کے لئے جنگ جاری ہے
لہٰذا رمضان حقیقی معنوں میں احساس دلاتا ہے کہ ہماری ذات سے بڑا کوئی شیطان نہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اب مکلف شخص کیلئے کوئی عذر باقی نہیں رہا، گویا کہ مکلف شخص سے کہا جا رہا ہے کہ: “تم سے شیاطین کو دور باندھ دیا گیا ہے، اب گناہ کرنے اور نیکی چھوڑنے کے بارے میں یہ حجت نہیں بنا سکتے کہ شیطان نے گمراہ کر دیا”” انتہی
” فتح الباری” از: ابن حجر (4/ 114)

تو دراصل شیطان سے بچنے کا پورے سال ہی عمل سخت رکھنا ہم پر لازم ہے، اور سب سے اہم بات کہ نفس کو پاک کرنا سب سے اہم مسئلہ ہے جس کی اﷲ تعالیٰ نے سورہ الشمس میں گیارہ مرتبہ قسم کھا کر فرمایا کہ وہ یقیناً پاک ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اپنی اصلاح اپنی کوریکش کرلی، تزکیہ نفس کرلیا۔

یاربّ العالمین تمام امت محمدیہ کو خاص طور پر مجھے اور میرے والدین کو مجھے اور میرے بچوں کو، مجھے اور میرے عزیزو اقارب کو دنیا و آخرت میں اپنی رضا و خوشنودی عطا فرما کر سب سے بڑی کامیابی عطا فرما۔ اللھم آمین یارب العالمین

مطلوب دعا۔۔۔آسیہ روبی

 

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply