logo-mini

قربانی کا مقصد

قربانی کا مقصد

الســـــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُ

قربانی کے متعلق آج کل ایک بحث پڑھکرحیرانگی ہورہی ہے کہ قربانی کی بجائے کسی غریب کی مدد کردی جائے, یا سستے بکرے کی قربانی کر کے باقی پیسوں سےغریبوں کی مدد کردو,قربانی کس کے لئے کی جاتی ہے؟ غریبوں ,محتاجوں کے لئے نہ؟

یہ باتیں انکو متاثر کرتی ہیں جو قربانی کے گوشت کو اپنے فریزر میں بھرتے ہیں یا صرف اپنے حلقہ احباب کو خوش کرتے ہیں
قربانی کے ایام میں کتنے بے روزگار سال بھر کا روزگار کما لیتے ہیں, کتنے ایسے لوگ ہیں جو سال میں ایک بار قربانی کے بہانے پیٹ بھر کر گوشت کھا لیتے ہیں, اس طرح کی باتیں کرنے والے پورا سال تو اپنے مہنگے اور فضول شوق پورے کرتے ہوئے سوچتے بھی نہیں کہ انہی پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دی جائے, کچرے میں کھانے پینے کی اشیا پھینکتے وقت کسی غریب کا خیال نہیں آتا کہ یہی تازہ کھانا کھاتے وقت کسی ہمسائے یا غریب کو دے دیا جائے, اپنے ملازمین کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا جائے, اکثر لوگ تو ہوٹلوں میں مہنگے ترین کھانے کھاتے ہوئے اپنے والدین تک کا خیال نہیں رکھتے, اپنے ملازمین کو ساتھ لے جا کر انکو مزید احساسِ کمتری کا شکار کرتے ہیں, اپنے مہنگے ترین ملبوسات خریدتے وقت ملازمین کا ایک سوٹ بھی نہیں اپنے جیسا خریدتے, وہ چھوڑیں اپنے والدین تک کا نہیں اپنے جیسا خریدتے وہ وادین جنہوں نے خود ساری زندگی پھٹے لباس پہن کر مہنگے سے مہنگا اس اولاد کو پہنایا ہوگا.بیکار شوق پورا کرتے وقت انکے دلِ مہربان میں کسی غریب کا خیال نہیں آتا, اور جب اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جو ہے ہی غریبوں کی خاطر ہے اس پیارے فریضے کو ادا کرتے وقت یہ حیلے بہانے اور تاویلیں کیوں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو اپنا کل سرمایہ اپنے بوڑھاپے کا سہارہ اپنا اکلوتا اور پیارا بیٹا بوڑھاپے میں اللہ کی رضا اور اللہ کے حکم پر قربان کرنے سے پہلے کسی حیلے بہانے سے کام نہ لیا, بات صرف اللہ کے حکم کی ہے پھر آپکو تو اپنا اکلوتا بیٹا نہیں اس کے عطا کردہ مال میں سے اس کی راہ میں فریضہ ادا کرنا ہے, اس فریضے کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل میں اپنی سب سے پیاری چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے جذبے کو پیدا کرتا ہے لیکن ان باتوں سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی ایک باقی باتوں کی طرح عام سا عمل ہے جس کو کوئی دکھاوے کی خاطر تو کوئی فریزر بھرنے کی لالچ میں ادا کر رہا ہے, اس طرح تو یہ عمل بکرے کے ذبح کا عمل بن جاتا ہے, قربانی کا نہیں قربانی کا جذبہ پیدا نہیں ہوا اس عظیم جذبے کو محسوس نہیں کیا تو قربان کیا کیا؟؟؟ وہ تو آپ نے لوگوں میں اپنا بھرم قائم رکھنے کو بکرا ذبح کیا, پھر اپنے من پسند دوستوں کو بانٹ دیا کچھ باقی خود کھا لیا تو تھوڑا سا اپنے آپ کو کھنگالیں اپنے دل کو ٹٹولیں کہ آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں اور کیا کر رہےہیں اور کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ ہر انسان اپنے آپ کو زیادہ بہتر جانتا ہے اگر وہ اپنے ساتھ ایماندار ہو تو ورنہ اکثر لوگ اپنی ہی نیتوں اور اعمال کو نہیں دیکھتے اور کہتے پھرتے ہیں کہ میرا دل صاف ہے. اگر نیت صاف اور جذبہ صادق ہو تو قربانی کا گوشت فریزر میں بھرنے کی بجائے غریبوں میں تقسیم کریں, ہاں اگر آپکو اچانک کوئی بہت زیادہ محتاج نظر آجائے اور آپکے پاس بمشکل قربانی کے پیسے ہیں تو آپ اسکی حاجت روائی کردیں تو وہ چاہے قربانی ہو یا حج خدا قبول فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں کو جاننے والا اور قبول فرمانے والا ہے ,وہ جانتا ہے کہ آپ سچے دل سے قربانی یا حج کا فریضہ ادا کرنے کی خاطر اتنی محنت سے پیسے جما کرتے رہے مگر اپنے شوق کو قربان کرکے آپ نے اللہ کے کسی بندے کو دیکھا اور اسکی تکلیف گوارہ نہ کی ظاہر ہے یہ عمل آپکا افضل مانا گیا, لیکن یہ بات کو اپنے مفاد میں مت استعمال کریں جو پورا سال اپنے شوق پورا کرتے وقت کبھی کسی غریب کی مدد کا نہیں سوچتے؟؟ رہی بات سستے بکرے کی تو وہ سب پر اپنی استطاعت کے مطابق فرض ہے اور اللہ کی راہ میں سب سے بڑھ کردو, اور اللہ سب کے حال اور نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے.

ایک اور ہنسی کی بات کہ ایسی پوسٹ کی آڑ میں لوگ مزاروں کی چادروں اور ربیع الاول کی بے جا افراط کے ساتھ ملا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں ہمارا معاشرہ نجانے کب غیر جانبدار ہو کر سوچے اور سمجھے گا

چادروں کو مزاروں پر چڑھانے کا اور ربیع الاول کو بے جا افراط کے ساتھ منا کر سنت کو بھول جانے کا کہاں حکم ہے؟ قرآن کی کونسی آیت ہے؟ حج اور قربانی اسلام کا بیحد اہم فریضہ ہیں اس کو مزاروں کی چادروں کے ساتھ مت ملائیں
یہی اگر ہم سب مسلم قرآن کو خود سمجھ کر پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو نہ ہمیں کوئی نام نہاد عالم, مولوی یا پیر بہکا سکتا ہے نہ ہم اپنے باپ دادا کی غلط رسموں اور توہمات کو دہراتے چلے جائیں گے

اللہ کی راہ میں ایسی چیز دو جو آپکو پسند ہو اور یہ تو پھر قربانی کے فریضے کی بات ہے, جسکی خاطر ایسا جانور دو جو پسند آئے اور جیب بھی اجازت دے اس طرح غریبوں کا بھی روزگار نکل آیا انکی ضروریات پوری ہو گئی, اور خریدنے والے نے بھی من پسند چیز اللہ کی راہ میں قربان کی,

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت میں راہِ ہدایت اور اپنی رضائے کاملہ عطا فرمائے. اللھم آمیٰن یا رب اللعالمٰین

والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَٱلْبُدْنَ جَعَلْنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌۭ ۖ فَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
Waalbudna jaAAalnaha lakum min shaAAairi Allahi lakum feeha khayrun faothkuroo isma Allahi AAalayha sawaffa faitha wajabat junoobuha fakuloo minha waatAAimoo alqaniAAa waalmuAAtarra kathalika sakhkharnaha lakum laAAallakum tashkuroona
اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لو ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،
And the large sacrificial animals – the camels and the cows – We have made them among the symbols of Allah, there is goodness for you in them; therefore mention the name of Allah over them with their one leg tied and standing on three feet; then when their flanks have fallen, eat from it yourself and feed the one who patiently awaits, and the beggar; this is how We have given them in your control, so that you be grateful.
(22 : 36)
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُحْسِنِينَ
Lan yanala Allaha luhoomuha wala dimaoha walakin yanaluhu alttaqwa minkum kathalika sakhkharaha lakum litukabbiroo Allaha AAala ma hadakum wabashshiri almuhsineena
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو
Never does their flesh nor their blood reach Allah, but your piety successfully reaches Him; this is how We have given them in your control so that you may speak His Greatness for guiding you; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) give glad tidings to the virtuous.
(22 : 37)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply