logo-mini

عورت گالی یا عزت

عورت گالی یا عزت

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

وہ عورت گالی اور طنزو مزاح کیوں ؟

جس کو قرآن بار بار خوش خبری سے پکارتاہے، دین جسے رحمت کہتا، اﷲ جس کے پیار کی اپنے پیار سے مثال دیتا، ماں کے روپ میں تین درجے باپ سے بلند کرتا، عزت سے جسے پردہ کا تحفظ دیتا، جس کی اچھی تربیت کرنے والے باپ کو جنت عطا فرماتا ہے،اچھی بیوی کو مومن  کے لئے دنیا میں ہی سب سے بڑا تحفہ کہتا ہے۔

جو عورت ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے خوبصورت رشتے کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ گالی گلوچ اور اشتہار و بازار کی زینت بنی نظر آتی ہے۔کھلونا بنا دیا گیا ہے عورت کو یا تماشہ، خالصتاً مردوں کی چیزوں حتیٰ کہ تعلیم و اسناد کو بھی عورت کی نمائش کے بنا نامکمل تصور کیا جاتا ہےعورت کی کوئی عزت باقی نہیں رہی، یہاں تک کہ گھریلو عورت کو بھی کوئی عزت نہیں دی جاتی، آپس کا مذاق ہو یا گالی ماں اور بہن یعنی عورت کو ہی دی جاتی ہے

اکثر مرد اپنی بیویوں کو ذرا ذرا سی بات پر یا دوسروں کا غصہ بھی اپنی بیوی پر اتارنے کے لئے اپنی بیوی کو گالی دیتے نظر آتے ہیں حتیٰ کہ اپنے بچوں کے سامنے بھی گریز نہیں کرتے، وہ جنکی عزت اور بنیاد ہے، انکی نظروں میں انکی عزت، جنت اور بنیاد کو حقیر کرکے انکی بنیادوں کو آپ نے خود ہی کمزور  کر دیا تو اپنے بچوں کو دنیا میں اور خاص طور پر آخرت میں کس طرح کامیاب دیکھنے کی خواہش کریں گے ؟

اس برائی کا شکار ان پڑھ اور جاہل ہی نہیں پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ بھی ہیں، حتیٰ کہ ٹیچرز تک بھی جو کتنے معمار اپنے ہاتھوں سے تعمیر کررہے ہیں، وہ بھی مزاح یا sense of humor کے نام پر اپنے ہی سٹوڈنٹس کی شخصیت کو تباہ کر رہے ہیں, قرآن میں مذاق اڑانے کو سخت ناپسند کیا گیا ہے

یہ جانتے ہوئے بھی کہ گالی دینے والا ہمیشہ اپنی ماں کو ہی گالی دیتا ہے،کیا ماں کے احسانات کا اس سے بہترین کوئی اور انعام ہو بھی نہیں سکتا

اور اہم بات یاد رکھیں آپکی ہر گالی آپ پر لوٹ کر آئے گی، آپکی فیملی کی کسی نہ کسی عورت پر کبھی نہ کبھی تکلیف یا ذلت بن کر ضرور لوٹے گی، یہ آپ نہیں جانتے صرف اﷲ جانتا ہے مگر یہی حقیقت ہے۔

دین اسلام  نے گالی کو سنگین جرم اور بد ترین گناہ قرار دیا ہے۔مگر صد افسوس ہمارے معاشرے میں گالی گلوچ کا فیشن بنتا جارہا ہے ۔بعض افراد ایسے بھی ہیں جو غصّے کی حالت میں آپے سے باہر ہوکر گالیاں دیتے ہیں مگر کچھ لوگ  ذرا ذرا سی بات پر گالی دیتے ہیں حتیٰ کہ کچھ لوگ تو  مزاحاً گالیاں دیتے ہیں،

اسلام تو غیر مسلم تک کو بھی گالی دینے سے منع فرماتا ہے۔ تو کسی مسلم کو گالی دینا کس قدر سخت گناہ ہوگا؟

رحمت اللعالمین ﷺ نے فرمایا:

مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ صحیح مسلم 221

بڑےگ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اﷲ کے رسول ﷺ کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی ماں کو گالی دیتا ہے۔”صحیح مسلم

ایک اور روایت میں ہے کہ

اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری

ملازم کو گالی دینے کی ممانعت:

اپنے ملازم پر اپنی دولت وثروت کا رعب جمانے کے لیے گالییاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتےرحمت اللعالمین ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ﷺ کی دس سال تک خدمت کرنے والے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

”میں نے دس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت کی اور اﷲ کی قسم!آپ نے نہ مجھے کبھی گالی دی اور نہ مجھے کبھی اُف تک کہا“ رحمت عالم ﷺ نے تو مُر دوں کو بھی گالی دینے اور برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے

۔غصے اور گالی گلوچ سے بچنے کا طریقہ:

حضرت سلیمان صرد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اﷲ ﷺ کے سامنے گالی گلوچ کی،تو ان میں سے ایک شخص کی آنکھیں غصے کے مارے لال پیلی ہوگئیں اور اس کی باچھیں پھولنے لگیں،تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

بے شک میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہے تو اس کا غصہ جاتا رہے اور وہ کلمہ

” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم“ہے۔

پیارے نبی ﷺ نے کتنے صاف الفاظ میں وضاحت فرما دی۔ اﷲ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اللھم آمین یارب العالمین

اﷲ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے،میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین

والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَقَدِمْنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُوا۟ مِنْ عَمَلٍۢ فَجَعَلْنَٰهُ هَبَآءًۭ مَّنثُورًا
Waqadimna ila ma AAamiloo min AAamalin fajaAAalnahu habaan manthooran
اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار، کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں
And We turned all the deeds they had performed into scattered floating specks of dust.
(25 : 23)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply