logo-mini

عورت نہ ہوتی تو مرد جنت میں ہوتے

عورت نہ ہوتی تو مرد جنت میں ہوتے

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

اس جملے سے ہر کوئی آگاہ ہے, کیونکہ اکثر مردوں کا یہی ماننا ہے کہ انکو جنت سے نکلوانے والی ذات عورت کی ہی ہے جس نے شیطان کے بہکاوے میں آکر خود پھل کھایا پھر آدم کو بھی کھلایا, یہی بات پیارے آقا رحمت اللعالمیٰن صلٰی اللّہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ھوئے دو صحابہ کرام رضی اللّہ عنہ کے درمیان ہوئی تو پیارے آقا رحمت اللعالمیٰن صلٰی اللّہ علیہ وسلم جو بیحد صبر و تحمل اور ٹھنڈے مزاج کے تھے کا چہرہ غصہ سے سرخ ھو گیا اور فرمایا کہ آج کے بعد جوایسا کہے گا وہ میری امت میں نہیں

اسکے باوجود آج بھی ہر مرد عورت کو موردِ الزام ٹھراتا ہے یہ شیطان کی سب سے گھٹیا سازش ہے جس سے وہ عورت مرد کے درمیان فساد کرا کے اپنے حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے جبکہ اللّہ پاک نے ان دونوں کو سب سے بہترین ساتھی اور رفیق بنایا تو جس کو اللّہ نے ساتھی بنایا کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوں؟

آیئے اس حقیقت کو قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں

ان آیاتِ مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان کے کئی بار بہکانے کے بعد غلطی سے وہ پھل کھا لیا پھر حوا نے کھایا
اللّہ پاک نے تو قرآن میں ہر علم اور حقیقت صاف صاف بیان فرمادی ہے ضرورت تو صرف ہمیں غور کرنے کی ہے
اور غور کرنے کی بجائے یہ مرد حضرات صدیوں سے شیطان کو خوش کرکے اپنا دل بھی جلاتے ہیں اور بد گمانیوں کے دائرے میں پھنس کر عورتوں کو بھی طعنہ بازی اور ناروا سلوک سے دکھی کرتے چلے آرہے ہیں

نتیجتاً عورت و مرد میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دھن سوار رہتی ہے,اور دونوں ایک دوسرے کی وہ عزت نہیں کرتے
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بہترین ساتھی بن کر ایک دوسرے کی دل سے عزت کریں تو دنیا بھی جنت بن جائے اور شیطان بھی ناکام اور نامراد ہو جس کے وہ قابل ہے

سورہ طہٰ میں اللہ پاک آیت ۱۱۵ تا۱۲۲  حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے نکلنے کا ذکر فرمایا ہے

اسمیں حضرت حوا علیہ السلام کو بہکانے کا ذکر تک نہیں آیا نہ ہی حضرت حوا علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو وہ پھل کھانے کا کہا تو پھر کیوں آج بھی ہر دوسرا مرد یہی سوچ کے تحت جی رہا ہے اور طعنہ زنی کر کے اپنے رب کو ناراض کرتا ہے اور شیطان کو خوش کرتے ہیں، کیونکہ شیطان کی تو کوشش ہی یہی رہی ہے کہ جنت سے نکلوا دیا اب دوبارہ جنت میں کسی بھی انسان کو نہ جانے دے ، اس مقصد کی خاطر وہ روزِ اول سے ہی عورت اور مرد کے درمیان فساد اور نفرت پیدا کرنے کی انتھک کوششیں کرتا رہتا ہے، شیطان سمندر کی گہرائیوں میں اپنے چیلوں کے ساتھ بیٹھا سارے دن کی کاروائی پوچھتا ہے سب کے کارنامے سنتا رہتا ہے کسی پر کم کسی پر زیادہ داد دیتا رہتا ہے مگر جب کوئی چیلہ کسی میاں بیوی میں علیحدگی کروانے کا اپنا کارنامہ بیان کرتا ہے تو شیطان اسی وقت خوشی سے کھڑا ہو کر اس چیلے کا ماتھا چوم کر بے پناہ خوشی سے داد دیتا ہے اور سب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ یہ ہے اصل کارنامہ اس نے آج خوش کیا مجھے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے،میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا
Walaqad AAahidna ila adama min qablu fanasiya walam najid lahu AAazman
اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،
And indeed before this We made a covenant with Adam, so he forgot, and We did not find its intention (in him).
(20 : 115)
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ
Waith qulna lilmalaikati osjudoo liadama fasajadoo illa ibleesa aba
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
And when We commanded the angels, "Prostrate before Adam" – so they all prostrated, except Iblis; he refused.
(20 : 116)
فَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّۭ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ
Faqulna ya adamu inna hatha AAaduwwun laka walizawjika fala yukhrijannakuma mina aljannati fatashqa
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے
We therefore said, "O Adam, he is your and your wife's enemy, so may he not get you both out from heaven, so you then fall into hardship."
(20 : 117)
إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ
Inna laka alla tajooAAa feeha wala taAAra
بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
"Indeed for you in heaven is that you may never be hungry nor be unclothed."
(20 : 118)
وَأَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا۟ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ
Waannaka la tathmao feeha wala tadha
اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ
"And that you never feel thirsty nor hot sunshine hurt you."
(20 : 119)
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ ٱلشَّيْطَٰنُ قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلْخُلْدِ وَمُلْكٍۢ لَّا يَبْلَىٰ
Fawaswasa ilayhi alshshaytanu qala ya adamu hal adulluka AAala shajarati alkhuldi wamulkin la yabla
تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے
So the devil incited him, saying, "O Adam, shall I show you the tree of immortality and a kingdom that does not erode?"
(20 : 120)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply