logo-mini

صحابہ کرام کے نام کے بعد رضی ﷲ عنہ

السلام و علیکم و رحمتہ اﷲ وبرکاتہ!
آج میں اپنی چھوٹی سی الجھن یہاں پر شیئر کرنا چاہتی ہوں یا شاید آپ سب سے پوچھنا چاہتی ہوں بچپن سے ہی مجھے ایک بات عجیب سی لگتی ہے کہ ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ کسی بھی صحابہ کے نام کے بعد رضی اﷲ عنہ لگایا جاتا ہے جو لگانا بھی چاہئے لیکن رضی اﷲ تو صحابہ کے نام پر بولنا چاہئے نا مجھے شروع سے ہی کچھ عجیب لگتا ہے کہ اﷲ تو صحابی سے راضی ہیں نہ ، تو ہم صحابی کے بعد ان کے والد کے نام کے ساتھ رضی اﷲ بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں، میں جانتی ہوں کہ آپکے ذہن میں یا سب کے کہنے کا مطلب صحابی کے نام کے ساتھ ہی رضی اﷲ عنہ لگانا ہوتا ہے، انکے مشرک والد کے ساتھ نہیں، لیکن میرے کہنے کا مطلب ہے کہ کیا ہی بہتر ہو کہ ہم سوچوں کے مطابق ہی الفاظ بھی ترتیب دے لیں، جیسے

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بن خطاب

حضرت خالد رضی اﷲ عنہ بن ولید

کیونکہ کیونکہ اﷲ نے ہر عمل کا الفاظ پر ہیں تو یہ رکھا ہے اور الفاظ ہیں اصل ہیں، جیسے ان شاء ﷲ دل میں کہنے کے باوجود بھی اﷲ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو مقدر میں سو بیٹے ہونے کے باوجود بھی مقدر بدل دیا اور آدھے جسم والی بیٹی عطا کی، تاکہ الفاظ کی اہمیت بتاسکیں

بیشک نیت اہم ہے، لیکن الفاظ بھی اہم ہیں، ہمارے دین میں جو جانے انجانے کچھ باتیں بگڑ چکی ہیں تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا کرکے ہی سہی درست کرنے کی کوشش کریں، غیر مذہب ہمارا مذاق اڑائیں اس سے بہتر ہے کہ ہم اپنی غلطیوں یا کمیوں کو خود جانچیں، ہم نہ چاہنے کے باوجود بھی کتنے ہی کفار پر رضی ﷲ عنہ کہہ دیتے ہیں جو بے شک قبول نہیں ہوتا لیکن انجانے میں ہوا وہ اﷲ معاف فرمائے آئندہ تردید کرلی جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ تعلیمی و درسی نصاب سے لے کر عملی طور پر ہر جگہ آج سے تردید کر لی جائے
آپ سب بھی واقف ہیں کہ خطاب اور ولید کافر تھے ولید تو اسلام دشمن بھی تھا
اسی طرح بہت سے صحابہ کرام جن کے والد مشرک تھے ہم صحابی پر رضوان اﷲ کہیں انکے مشرک یا باپ پر کیوں؟؟؟
آپ سب کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟؟؟؟
مطلوبِ دعا۔۔۔۔ آسیہ روبی

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply