logo-mini

شوہر مزاجی خدا تو الله کیا؟

شوہر مزاجی خدا تو الله کیا؟

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

شوہر اگر مزاجی خدا (اپنی مرضی اور پسند کا خدا ) ہے تو کیا “االله “(نعوز باللہ) زبردستی کا خدا ہے؟؟

بر صغیر  پاک و ہند میں شوہر کو مزاجی خدا کہتے تھے. یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے.

 ایک طرف عورت اور  مرد کے درمیان آج سرد جنگ جاری ہے. تو دوسری طرف عورت اپنے شوہر کو بہت فخر سے اپنا مزاجی خدا کہتی نظر اتی ہیں، اور ان میں اکثریت ان خواتین کی ہے جو اپنے شوہر کو خاطر میں بھی نہیں لاتیں

اور مرد بھی اپنے آپکو عورت کا مزاجی خدا کہتا ہے.

ایک مسلمان بیوی کو حضرت عائشہ رضی الله عنہا یا حضرت فاطمہ رضی الله عنہا جیسی بیوی بننے کی کوشش کرنی چاہیے.

اس قدر پاک بی بی عائشہ رضی الله عنہا کہ جن کی پاکیزگی کی قرآن بھی گواہی دیتا ہے ، کیا انہوں نے یا باقی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک نے بھی دنیا جہاں کے سب سے بہترین انسان و پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ و سلم کو کبھی مزاجی خدا کہا؟

(یقیناً کبھی نہیں). کیا وو پاک ترین بی بیاں اپنے عظیم ترین شوہر صلی الله علیہ وسلم کو محبت نہی کرتی تھیں؟ (نعوز باللہ)

تو پھر کوئی دوسرا شوہر یہ حق کیسے رکھتا ہے؟ پھر کیا آج اپنے شوہر کو مزاجی خدا کہہ کر شرک کرنے والیاں مسلم نہیں ؟ یا کہلانے والے شوہر مسلم نہیں؟

بے شک سب مسلمان ہیں ، مگر صرف اپنے دین سے لا علمی ہے. کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول نہیں رہا.

اور مزہ کی بات تو یہ ہے کہ جن خواتین کو میں نے اپنے شوہر کو مزاجی خدا کہتے سنا ہے، انہیں خواتین کو خوب جوش و خروش سے انکی برائی کرتے بھی دیکھا ہے. اور برابری کے دعوے بھی کرتے دیکھا ہے. کیسا تضاد ہے؟

معبود میں تو اول صفت ہر برائی سے پاک ہونا ہے

سمجھ نہیں آئی مجھ کم عقل کو .حالانکہ یہ دونوں عمل غلط بلکہ گناہ ہیں. 

ایک مسلمان بیوی کو یہ کبھی بھی زیب نہیں دیتا نہ ہی ایک مسلم شوہر کو زیب دیتا ہے کہ وہ خدا کا شریک ٹھہرا کر شرک کرے. قران پاک میں الله تعالیٰ شوہر کو مزاجی خدا نہیں ،افسر بتاتا ہے،حاکم کہتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ

“تم اپنے شوہر کے ہر جائز حکم کی فرمانبرداری کرو . اسکے ساتھ وفا اور محبت نبھاؤ”

عورت کو لازم ہے کہ وہ  اپنے شوہر کے ہر جائز حکم کی فرمانبرداری کرے . اسکی غیر موجودگی میں اسکی عزت اور اسکے مال کی حفاظت کرے . یہاں تک کہ اسکی غیر موجودگی  میں اسکی مرضی کے بغیر کسی نہ محرم کو گھر میں نہ آنے دے.اور اسکی مرضی کے خلاف ایک روپے بھی خیرات نہیں کر سکتی . ہاں اگر شوہر نے گھر کا خرچ بیوی کے ذمہ کیا ہے تو وہ بہتر سوچ کر کر سکتی ہے. مگر پھر بھی اپنے بچوں کا حق کسی اور کو نہیں دے سکتی سواے خیرات کے. اگر شوہر کی غیر موجودگی میں بیوی عزت و مال میں خیانت نہیں کرتی تو ہر رات ایک جہاد اور ہر دن ایک حج کا ثواب حاصل کرتی ہے.خدا تو عظیم ہے. 

آپ کیسے گوارا کرتے ہیں کہ آپکی بیوی آپ کو اپنی مرضی کا خدا بنا کر پوجے؟ ہم خدائے عظیم و برتر کے ساتھ جب رحمت اللعالمین صلی الله علیہ وسلم کو بھی شریک نہیں کر سکتے تو شوہر تو بعد میں آتا ہے.محبت اور وفا نبھا کر درجات حاصل کریں مگر مزاجی خدا کہہ کر شرک نہ کریں.

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے،میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا
Alrrijalu qawwamoona AAala alnnisai bima faddala Allahu baAAdahum AAala baAAdin wabima anfaqoo min amwalihim faalssalihatu qanitatun hafithatun lilghaybi bima hafitha Allahu waallatee takhafoona nushoozahunna faAAithoohunna waohjuroohunna fee almadajiAAi waidriboohunna fain ataAAnakum fala tabghoo AAalayhinna sabeelan inna Allaha kana AAaliyyan kabeeran
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے
Men are in charge of women, as Allah has made one of them superior to the other, and because men spend their wealth for the women; so virtuous women are the reverent ones, guarding behind their husbands the way Allah has decreed guarding; and the women from whom you fear disobedience, (at first) advise them and (then) do not cohabit with them, and (lastly) beat them; then if they obey you, do not seek to do injustice to them; indeed Allah is Supreme, Great.
(4 : 34)
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةًۭ وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ
Wamin ayatihi an khalaqa lakum min anfusikum azwajan litaskunoo ilayha wajaAAala baynakum mawaddatan warahmatan inna fee thalika laayatin liqawmin yatafakkaroona
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
And among His signs is that He created spouses for you from yourselves for you to gain rest from them, and kept love and mercy between yourselves; indeed in this are signs for the people who ponder.
(30 : 21)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply