logo-mini

روح کی تڑپ

روح کی تڑپ

نحمده و نصلي على رسوله الكريم أما بعد
فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم االله الرحمن الرحيم

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

میرے خیال میں اس تڑپ سے ہر مسلم کو آگاہ ہونا پڑتا ہے اور یہ تڑپ کیا ہے ہم اس پر بات کرتے ہیں
محبت ایک فطری عمل ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں،

یہی انسان کا خاصہ بھی ہے اور حکم الہی بھی،

کہ محبت کریں اور محبت بانٹیں

کائنات کا سب سے خوبصورت رنگ بھی یہی ہے
کیونکہ ہم انسان ہیں خطا کے پتلے بھی،

کوئی مشین نہیں جذبات اور محبت کے بنا ہمارا وجود بے معنی ہے، خاص طور پر کسی انسان سے والہانہ محبت کے بعد اس کا بچھڑنا ، جدائی یا بےوفائی ایسا عمل ہے جو کسی بھی انسان سے برداشت کرنا مشکل ہے حتیٰ کہ پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام بھی اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی کا صدمہ سہہ نہ پائےتھے
بہادر سے بہادر انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے بند لبوں سے چیخیں سنائی دیتی ہیں انسان ریت کا ذرہ بن جاتا ہے تب روح اپنے اصل کو پکارتی ہے تب اصلی محبت کا ادراک ہوتا ہے اور وہ لمحہ روح پر زلزلے کی طرح وارد ہوتا ہے
اس لمحے روح پر عذاب کا ذکر یاد آتا ہےاس لمحے کو کوئی برداشت نہ کرتے ہوئے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو کچھ انسان ایسے صدمے کے بعد پہلے سے زیادہ سخت دل ہو جاتے ہیں اور نفرت کے جذبات پال لیتے ہیں جو اپنی ذات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں تو کچھ لوگوں کو اللّہ پاک اپنی خاص محبت و عنایت سے اپنی حقیقی محبت عطا فرما دیتا ہے،

اور اس طرح کے الفاظ سے تسلی اور مضبوطی عطا فرماتا ہے
کہ تم ان پر غم نہ کھاؤ اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ ہو
یا
عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
یا
تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا

پھر انسان پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوجاتا ہے اتنا مضبوط کہ پھر کوئی دنیاوی حملے اس کو جھنجوڑنے یا توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے مگر اندرونی طور پر وہ حد سے زیادہ نرم ہو جاتا ہے کیونکہ اس لمحے یہ حقیقت دل میں گھر کر جاتی ہے کہ شدید محبت کے قابل صرف اللہ پاک کی ذات ہی ہے کسی بھی انسان سے شدید محبت کر کے ہمیشہ یہی انجام ملتا ہے

اگر اللہ کی یاد میں بھی کسی انسان کی یاد کی پرچھائیاں شامل کرو گے تو یقین کرو روح تو چیخے گی اللہ تعالی کی طرح کسی کو اپنے خیالوں میں سوار کرو گے یا اپنے اختیار سونپو گے تو روح لازم تڑپے گی چیخے گی جنجھوڑ ے گی، چوٹ کھائے گی احتجاج کرے گی کئی عذاب ایک ساتھ روح پر اتریں گے اک گہری بے سکونی اور اضطراب دل میں گھر کر جاتے ہیں،

اللہ فرماتا ہے قرآن میں بے شک انسان خسارے یعنی نقصان میں ہے

اور
یہی ہیں وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں

اور
یہی ہے گھاٹے کا سودا کرنے والے
اور
انسان سب سے بڑا ناشکرا ہے
اور
انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا لو ہے
جب اللہ تعالی نے فرما دیا تو کوئی انسان دوسرے انسان کی ناقدری کیسے نہ کرے جو انسان اپنے ساتھ بے پناہ محبت و عنایات کرنے والے اﷲ تعالیٰ سے بھی ناشکراپن اور بے وفائی کرنے میں دیر نہیں کرتا
کسی بھی انسان کا ضرورت سے بڑھ کر پیار عزت،دولت و شہرت اور قدر ملنے پر بے قدرا ہونا فطری عمل ہے
یہ چیزیں ہر کسی کو ہضم نہیں ہوتیں نہ ہی سنبھالی جاتی ہیں

سب سے اہم بات کسی اور کا حق کسی اور کو دو گے تو اﷲ آپ کو کیسے کامیاب ہونے دے گا
ضرورت سے زیادہ محبت کرو گے تو وہی انسان تمہارے وجود کی تذلیل کر کے تمہاری روح کو تسکین پہنچائے گا،

روح اور دل میں جنون کی محبت کے لائق صرف اللہ کریم کی ذات پاک ہی ہے

اللہ کسی انسان کی خواہش و محبت میں انسان کو بھٹکا کر اپنی محبت و ذات کی پہچان کرادیتا ہے
جان لو کہ سب سے زیادہ محبت کا حقدار تو صرف اللہ ہی ہے
کیونکہ انسان کے اندر اللہ کریم نے اپنی طرف کی روح پھونکی تو وہ روح اپنے اصل سے بچھڑ کر تڑپے گی تو ضرور
کیوں؟؟؟
کیونکہ کائنات کا حاصل ہی اللہ واحد کی ذات ہے
انسان کا مقصد حیات روح کی حقیقت ہے
اور یہ محبت بھی دلوں میں اللہ ہی رکھتا ہے
لیکن محبت میں اعتدال کا حکم بھی اللہ تعالی ہی دیتا ہے
جیسے کسان اپنے کھیت کو بیچ ڈالنے سے پہلے ہل چلا کر مٹی کو نرم کرتا ہے ٹھیک ایسے ہی اللہ بھی دل کو دکھ کا شاک لگا کر اس نرم دل کو اپنی محبت عطا فرماتا ہے
ہم انسان ہیں خطا کے پتلے بھی، احساسات میں گندھے ہوئے ، ہمارا اداس ہونا دکھی ہونا کسی اپنی یا غیر کی باتوں پر ہرٹ ہونا کبھی خاموشی اچھی لگنا کبھی اداسی، تو کبھی ہجوم یہ سب انسانی اور قدرتی باتیں ہیں، غلط نہیں
جو سب پر طاری ہوجاتی ہیں، پیغمبر بھی ان احساسات سے عاری نہیں تھے،
اصل بات ہے ہم خود کو دوبارہ کتنی جلدی کور اپ کرتے ہیں، کوشش یہ کریں کہ جلد از جلد اس آیت کو یاد رکھیں جو دوسروں کی باتوں سے پریشانی کی صورت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ
صبر اور نماز سے مدد لو
آپ یقین کریں گے ایسا کرنے سے آپکو اس سچویشن کو ہینڈل کرنے کا حل بھی ضرور ملے گا، اور سکون بھی
جتنی جلدی ان دونوں چیزوں سے مدد لے لیں گے اتنی ہی جلدی آپ خود کو سنبھال لیں گے، دیری آپکی تکلیف اور بےسکونی میں اضافے کا باعث ہے
بس اس سچویشن کو خود پر طاری مت ہونے دیں
سب سے بڑی غلطی لوگ اداس میوزک لگا کر مزید تکلیف و اداسی کو بڑھاتے ہیں
فورا اللہ سے رجوع کریں سب اس کے سپرد کردیں یہ سوچ کر کہ ہر کام میں مصلحت ہے ہر مشکل اپنے ساتھ دو آسانیاں لیکر آتی ہے،
اس انسان یا غلطی سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں، خود کو سنوارنے کی کوشش کریں
کیونکہ جو ہو چکا وہ بدلنا آپ کے بس میں نہیں لیکن مزید غلط نہ ہو سکے اس کی کوشش آپ کے اختیار میں ہے اور انسان سے اللہ نے صرف اس کی کوشش ہی مانگی ہے اور وہی دیکھی جائے گی کامیابی یا ناکامی تو اللہ کے اختیار میں ہے اللہ تعالی ہم سب کو خاص طور پر مجھے، میرے والدین اور میرے بچوں کو اپنی خالص محبت و سکون عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
دعاؤں کی طلبگار ۔۔۔آسیہ روبی

 

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


2 comments

    • Nazneen Jamil-
    • March 29, 2019 at 11:22 am-
    • Reply

    Very well done… Very inspiring lecture. Keep it up… Allah apko jazaye khair dey. Ameen sum ameen

    • Ameen ya Rabulallaameen, in sha Allah, wa iyyaka , my pleasure

Leave a Comment

Leave a Reply