logo-mini

روح کی تڑپ

روح کی تڑپ

السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ

روح کی تڑپ

بچھڑنا، جدائی بے وفائی ایسے عمل ہے جو کسی بھی انسان سے برداشت کرنا مشکل ہے بہادر سے بہادر انسان کی روح بھی تڑپ اٹھتی ہے، بند لبوں سے بلند چیخیں سنائی دیتیں ہیں،انسان ریت کا ذرہ بن جاتا ہے
تب روحوں پہ عذاب کا ذکر یاد آتا ہے،
شدید محبت کے قابل صرف الله کی محبت ہے، کسی انسان سے شدید محبت کرکے ہمیشہ یہی انجام ملتا ہے، اللہ کی یاد یا عبادت میں بھی کسی غیر کی یادوں کی پرچھائیاں شامل کرو گے تو یقین کرو روح چیخے گی، اللہ کی طرح کسی کو اپنے خیالوں میں سوار کرو گے، یا تمام اختیارات دوگے تو روح لازم تڑپے گی، چوٹ کھائے گی، احتجاج کرے گی، کئی عذاب ایک ساتھ روح پر اتریں گے، ایک گہری بے سکونی و اضطراب دل میں گھر جاتے ہیں
اللہ فرماتا ہے قرآن میں “بیشک انسان خسارے یعنی نقصان میں ہے”
مزید ۔۔۔”یہی ہیں وہ جو ظلم کرتے ہیں اپنی جانوں پہ ۔۔”
“یہی ہیں گھاٹے کا سودا کرنے والے ۔۔ ”
“انسان سب سے بڑا ناشکرا ہے”
جب اللہ کریم نے فرما دیا تو کسی انسان کی ناقدری کیوں نہ کرے یہ انسان، انسان کا ضرورت سے بڑھ کے ملنے پر ناقدرا ہونا ایک فطری عمل ہے، ضروت سے زیادہ محبت کرو گے تو وہی انسان تمھارے وجود کی تذلیل کر کے تمھاری روح کو تسکین پہنچائے گا
روح اور دل میں جنون کی محبت کے لائق صرف اللہ کریم کی ذات پاک ہی ہے، کسی انسان کی خواہش و محبت میں اللہ انسان کو بھٹکا کر اپنی محبت اور ذات کی پہچان کرادیتا ہے۔۔ آسیہ مشتاق

Asiya Mushtaq

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply