logo-mini

خواجہ سرا کی بد دعا

خواجہ سرا کی بد دعا

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

آپ نے اکثر لوگوں کو خاص طور پر عورتوں کو خواجہ سرا کی بد دعا سے بری طرح خوف زدہ ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا، حتیٰ کہ پڑھے لکھے ، دین اسلام کو سمجھنے والے بھی بہت بری طرح ڈرتے ہیں، اس بد دعا سے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ملتا، ہاں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ دنیا میں ہر مخلوق کو جوڑے کی صورت میں پیدا کیا گیاہے ۔

وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔

”اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو”

(الذاریات 51:49)

اِس میں جانور، انسان ،حتی کہ نباتات تک شامل ہیں،

کیاحدیث میں اِس کا کوئی ذکر یا حوالہ موجود ہے؟ میری ناقص معلومات میں اِس کا کوئی ذکر اسلامی نقطہ نظر سےموجود نہیں،
بعض روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی ایسے بعض ناقص مردوں اور عورتوں کے وجود کا تذکرہ ملتا ہے۔
خواجہ سرا نہ الگ قوم ہیں نہ ہی الگ مخلوق ہیں، اسلام کے تمام ارکان ان پر بھی ہماری طرح واجب ہیں، حقوق العباد ہوں یا حقوق اللہ اللہ و رسول ﷺ کی پیروی ان پر بھی اسی طرح فرض ہے سوائے شادی، اوصاف کے اعتبار سے اُن میں سے بعض کامل مردانہ اوصاف سے محروم ہوتے ہیں اور بعض زنانہ اوصاف سے، اس طرح سے یہ بھی جوڑے ہی ہوئے۔

یہ اُن کی تخلیق کا وہ نقص ہے جو اُن کے خالق اور پروردگار نے اُن میں ایسے ہی رکھا ہے جیسا کہ بعض انسان دوسرے اعضا سے پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں۔کسی کمی کے ہونے پر ہم جس طرح اندھے ،ہرے یا گونگے کو الگ قوم کی حیثیت نہیں دیتے۔۔
قرآنِ مجید میں خوا جہ سراؤں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، بلکل ایسے جیسےکہ قرآن میں پیدائشی نابینا انسانوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے؛ سماعت سے معذور افراد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے؛ ہاتھوں سے معذور پیدا ہونےوالے انسانوں کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے۔۔۔۔وغیرہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کو آزمانے کے لئے ان میں اِس طرح کے بعض نقائص رکھے ہیں، جو بنا کمی کے ہو وہ کمی والے کو دیکھ کر اسکا مذاق نہ بنائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا دل سے شکر ادا کریں، اور کمی والے اپنی کمی پر صبر کریں، اسلام تو جانوروں حتیٰ کہ پودوں تک کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔

مردوں کے اوصاف والے ہیجڑے مرد شمار ہوں گے اور ان پر مردوں والے تمام احکامات فرض ہوں گے،جو زنانہ ہیجڑے ہوتے ہیں ان پر تمام احکامات عورتوں والے فرض ہوں گے، ٹھیک اس طرح جیسے پیدائشی نابینا، یا بہرے یا گونگے یا کسی بھی جسمانی محرومی کے باوجود بھی وہ اسلام کے تمام ارکان ادا کرتا ہے

تو پھر خواجہ سرا کی بد دعا کا کیوں ڈر؟؟؟؟

بد دعا تو کسی کی بھی ہو، خاص کر ماں یا باپ کی، مظلوم کی ، یتیم کی بد دعا سے

ماں کا دل دکھتا ہے تو عرش بھی ہل جاتا ہے ،وہ بد دعا نہ بھی دے تو بھی اسکے نصیب میں برائی اور نقصان لکھ دیا جاتا ہے۔اور اس گناہ سے بچنے کی قرآن و حدیث میں نجانے کتنی بار تلقین کی گئی ہے،

اس کے بعد یتیم کے لئے سب سے زیادہ تلقین کی گئی، پھر مظلوم پر خاص رحم اور اخلاقیات کا حکم ہے،کافر تک کی دل آزاری اور حق تلفی معاف نہیں،

اگر خواجہ سرا یا خسرہ جو معذور نہیں قابل عزت اور صحت مند جسم کے مالک ہیں، سوائے اولاد پیدا کرنے کے باقی تمام احکامات اور رہن سہن مرد و عورتوں کے برابر ہے، انکو بھیک دے کر ایک غلط چیز کو بڑھاوا مت دیں، نہ ہی ان کا مذاق اڑائیں

جو لوگ ایک طرف ان کی بد دعا سے ڈرتے ہیں دوسری طرف وہی لوگ ان کو دیکھ کر ڈرتے ہیں یا مذاق اڑاتے ہیں، مگر عزت نہیں دیتے،

جو عمل دل آزاری کہلاتا ہے، جو گناہ کا کام ہے، اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کا مذاق اڑانے کا حق اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا، ڈرنا ہے تو اس بات سے ڈریں کہ ان کا مذاق نہ اڑائیں بلکہ ان کے ساتھ نارمل طریقے سے پیش آئیں

زمانہء جاہلیت میں ہوتا تھا کہ اپنے بزرگوں کی باتوں پر ایمانِ کامل، مگر اللہ کی باتوں پر کوئی ایمان نہی، لیکن قرآن نے ان باتوں کی تردید کردی تو قرآن پر ایمان لانے والے ایسی باتوں کو بھی رد لازم کریں، پھر چاہے وہ خود خواجہ سرا ہوں یا ان کے گرد موجود کوئی خواجہ سرا سے آپ کا سلوک

لوگ اپنی خوشی کی محفلوں میں اُن کو تفریح کے لیے بلاتے ہیں بیہودہ ناچ کرواتے ہیں، یا یہ خود پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی اِن پر ہنستا ہے،کوئی اِن سے لطف اٹھاتا ہے توکوئی اِن پر ترس کھاتا ہے۔ایک ایسی مخلوق جس سے معاشرہ انسانی سلوک کرنے کو تیار نہیں

زیادہ تر یہ خود زیادتی کرتے ہیں، اپنے آپ کو چال ڈھال، بول چال، حتیٰ کہ ناچ گانا، میک اپ کرکے اپنی ذات کی نفی اور تذلیل کروانے میں انکا سب سے بڑا اپنا ہاتھ ہے، کسی والدین کی اولاد کو مختلف دیکھ کر اس کے والدین سے زبردستی بھی یہ چھین کر لے جاتے ہیں، جو کہ خلاف قانون اور طلم و گناہ ہے

کمی یا محرومی کے باوجود بھی ہر بچے پر اس کے والدین کا حق بھی ہے اور فرض بھی، کہ وہ ان کو باقی بچوں کی طرح ہی پالیں۔

اللّہ پاک و برتر سے دل کی گہرائیوں سے التجا ہے کہ ہم سب کو دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے اور دوسروں میں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے. اللھم آمیٰن یا رب اللعالمیٰن

والسلام۔۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَمِن كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
Wamin kulli shayin khalaqna zawjayni laAAallakum tathakkaroona
اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو
And We created all things in pairs, so that you may ponder.
(51 : 49)

 

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply