logo-mini

حسد کی آگ

حسد کی آگ

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُہ

حسد کرنے والا جلتی ہوئی لکڑی کی مانند ہر وقت سلگتا رہتا ہے

حرص و حسد آگ سے زیادہ جلائے جانے والی ہیں

حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو

ان باتوں سے ہر کوئی آگاہ ہے مگر پھر بھی نجانے کیوں اکثر لوگ اس موذی مرض کے شکار ہوجاتے ہیں، اور پھر مانتے بھی نہیں کہ انکو یہ مرض ہے نہ ہی اس سے شفا پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر وقت اپنے حریف کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں لگے رہتے ہیں بجائے اسکے کہ ہم مسلم ہونے کے ناتے دوسروں کو آسانیاں ،مسکراہٹیں اور دعائیں بانٹ کر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو آسان اور خوبصورت بنائیں، الٹا عمر بھر دوسروں کا برا چاہنےمیں صرف کر دیتے ہیں اور دشمنی کی بعض اوقات وجہ بھی نہیں علم ہوتی بس حسد کہ وہ مجھ سے زیادہ کامیاب کیوں ہے، لائق کیوں ہے، امیریا خوبصورت یا ذرا سا بھی بہتر کیوں ہے؟ یہاںتک کہ اسکے مارکس مجھ سے بہتر کیوں ہے؟ والدین مجھ سے زیادہ اس سے پیار کیوں کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ

حالانکہ اگر یہی محنت اور وقت خود کو سنوارنے اور بہتر بنانے میں لگایا ہوتا توحالات اس سے بہتر ہوتے اور دوسری طرف لوگ حاسدوں کے الٹے سیدھے عمل اور سازشوں سے پریشان رہتے ہیں

حسد کی آگ نے سب سے پہلے مقرب ترین فرشتے کو شیطان مردود بنا دیا، اسی طرح قابیل کو اپنے ہی معصوم اور بے قصور بھائی ہابیل کا قاتل بنا دیا، اسی طرح برادرانِ یوسف علیہ السلام  نے جب دیکھا کہ انکے والدِ گرامی ان سے زیادہ حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے مساوی سلوک کرتے تھے دل میں محبت زیادہ تھی رویے میں محسوس نہیں ہونے دیتے تھے، یہاں تک کہ خدا کی طرف سے آیا ہوأ خواب تک بھی انکے سامنے بیان کرنے سے منع کردیا، دلی محبت کی وجہ حضرت یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ معصومیت ، نیک کردار اور فرمانبرداری تھی، پھربِن ماں کے سب سے کم سِن بچے بھی تھے، تو اصولی طور پر محبت اور توجہ کے زیادہ حقدار تھے، بجائے اسکے کہ بھائی خود بھی زیادہ خیال اور شفقت فرماتے، اچھی عادتیں اپناتے توباپ کی زیادہ محبت پاسکتے تھے، مگر الٹا اپنے حسد کی آگ میں حضرت یوسف علیہ السلام کو مارنا چاہا، فائدہ کیا ہوأ ؟؟  ناکام و نامراد ہوئے،

انہوں نے باپ کی نگاہوں سے دور کیا مگر محبت اور بڑھتی گئی ، بے یارو مددگار سمجھ کر ظلم کی انتہا کی کنویں میں پھیکا، خراش تک نہ آئی ، غلام بنا کر فروخت کیا، مگر خدا نے بادشاہی عطا فرمائی ۔  ظاہر ہے محبت والدین کو سب سے برابر ہوتی ہے مگر تمام اولاد والدین سے ایک جتنی محبت یا ایک جیسا سلوک نہیں کرتی، تو والدین کی محبت بھی اسی حساب سے زیادہ کم ہو سکتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں سے ایک جیسی محبت کرتا ہے مگر نیکیوں کے حساب سے محبت اور قربت کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔

یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ حسد کرنے والا اپنے حسد میں ہمیشہ جلتا رہتا ہے، مگر یہ بات کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ حسد کرنے والا ایڑی چوٹی کا زور لگاکر ہزاروں سازشیں کرنے کے بعد بھی سب سے زیادہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، شیطان نے بھی زیادہ نقصان اپنا کیا، قابیل نے بھی اپنے بھائی کو ہلاک کر کے اپنا ہی نقصان کیا،ہابیل کا تو وقتِ آخر تھا روح اصل مقام تک پہنچ گئی قابیل نے اپی زندگی کو ہر پل تکلیف دہ بنایا اور رہتی دنیا تک ہر قاتل کے گناہ کا برابر شریک بنا، سب سے بڑھ کر خدا کا معتوب ٹھرا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی بھی ہر سازش ناکام ہوئی، باپ کی نظروں میں مزید خود کو   برا بنایا اور خدا کی نظر میں بھی، پھر معافی، توبہ اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا و سفارش سے معافی پائی اور ہدایت بھی۔ یہی اگر پہلے اپنے چھوٹا بھائی کو شفقت و محبت کا سلوک دیتے تو اپنا ہی بھلا کرتے۔ اسی لئے آپ بھی کسی کی سازشوں اور حسد سے مت گھبراؤ، کہ کوئی تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک خدا کچھ نہ چاہے، ویسے بھی آپ سے زیادہ قابلِ رحم تو آپکا حریف ہے جو اپنی نیکیاں آپکو دے رہا ہے اور اپنی آگ میں جل کر اپنی دنیا بھی خراب کر رہا ہے، نہ زندگی کا مزا لیا نہ آخرت کی فکر کر پایا، آپکا ساتھ تو خدائے پاک دے رہا ہے آپکی حفاطت کی خاطر اس بیچارے کا سوچیں جس کا ساتھ صرف شیطان یا الٹے سیدھے عامل کامل ہی دے رہے ہیں، تو آپ اپنے ہدف پر نظر رکھو، اپنی نیت اور مقصد صاف رکھیں، کامل یقین خدائے برتر و واحد کی ذات پاک پر رکھیں اور اس کے حوالے خود کو کردیں۔

Think Positive

کیونکہ اللہ عزوجل کا ہی فرمان ہے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں کہ

اس لئے لوگوں کی سازشوں اور تدبیروں سے تم پریشان مت ہو، اللہ کی خفیہ تدبیر اور چاہت سب پر بھاری ہے۔

اللھم آمیٰن یا رب اللعالمیٰن

والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
Waitha athaqna alnnasa rahmatan min baAAdi darraa massathum itha lahum makrun fee ayatina quli Allahu asraAAu makran inna rusulana yaktuboona ma tamkuroona
اور جب کہ ہمارے آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ داؤں چلتے ہیں تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں
And when We give mankind the taste of mercy after some hardship which had afflicted them, they immediately start conspiring against Our signs; proclaim, "The secret plan of Allah is the fastest"; indeed Our angels record your scheming.
(10 : 21)
وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ
Wamakaroo wamakara Allahu waAllahu khayru almakireena
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے
And the disbelievers conspired (to kill Eisa), and Allah covertly planned to destroy them; and Allah is the best of secret planners.
(3 : 54)
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ
Waith yamkuru bika allatheena kafaroo liyuthbitooka aw yaqtulooka aw yukhrijooka wayamkuroona wayamkuru Allahu waAllahu khayru almakireena
اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکا ل دیں اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
And remember O dear Prophet when the disbelievers were scheming against you to either imprison you, or to kill you or to banish you; and they were scheming, and Allah was making His secret plan; and Allah's secret plan is the best.
(8 : 30)
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
Wamin sharri hasidin itha hasada
اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے
"And from the evil of the envier when he is envious of me."
(113 : 5)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply