logo-mini

بے دین کی دوستی

بے دین کی دوستی

السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

بے دین اور بد مذہب کی دوستی اور اسکے ساتھ صحبت، الفت و احترام ممنوع ہے، ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ابو داود ترمذی میں ایک حدیث مروی ہے کہ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھنا چاہئے کہ کس کو دوست بناتا ہے )
پہلے قلمی دوستی کا فیشن ہوتا تھا، اور اب کافی عرصہ سے نیٹ کمیونیکیشن کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوئے کسی بھی شخص سے کوئی بھی دوستی کرلیتاہے، حقیقی زندگی میں بھی کسی کا صرف اخلاق دیکھ کر متاثر ہو کر دوستی شروع، عادات و اطوار اور مذہب کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، انکو اپنے دین کی طرف راغب کرنے کی بجائے انکی خوشی کی خاطر انکی رسومات و عادات کو اپنا لیتے ہیں، یہاں تک کہ ہر قدم پر دشمنی نبھانے والے، دل میں بغض و کینہ رکھنے والے ، جو کبھی بھی ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، ان سے بھی دوستی کر لی جاتی ہے، حالانکہ دوست تو آپکا آئینہ دار ہوتا ہے۔
سب سے پہلے اسکا دین ،پھر اسکی عادات و اطوار اور اسکے احباب بھی دیکھنے چاہئیں، بنِا سوچے سمجھے کسی کو بھی دوست بنا لیننے کا مطلب ہے کہ آپ نے غلط صحبت اختیار کرلی۔اکثر حضرات یہ جواب دیتے ہیں کہ (اپنا کردار مضبوط ہونا چاہئے، آپکا ماحول اور آپکی صحبت آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے) میں مانتی ہوں کہ اگر انسان کا کردار مضبوط ہو تو ہو کسی کی صحبت میں بھٹکنے کی بجائے دوسروں کو راہِ ہدائت دکھا سکتا ہے، مگر کسی وقت کسی کمزور لمحے میں مضبوط کردار بھی کمزور پڑ سکتا ہے، ویسے بھی لوگ آپکو آپکی صحبت سے پہچانتے ہیں، مگر اصل بات یہاں قرآن کے حکم کی ہے جس کو نہ مان کر کس کا کردار مضبوط رہ سکتا ہے؟

راہِ ہدائت دکھانے کے لئے آپ کسی سے دوستی کئے بنِا بھی اسکو اپنی بات سے ، اپنے اعلیٰ کردار و اخلاقیات سے متاثر کر سکتے ہیں، اور یہ ہمارا فرض بھی ہے،کہ آپ بہترین انسانیت اور اخلاقیات کا ہمیشہ مظاہرہ کریں اپنے کسی بھی عمل اور الفاظ سے دوسروں کو دین کا غلط تاثر مت دیں، لیکن دوستی الگ بات ہے

آپ سوچیں کہ اس طرح نہ آپکے نفس نے آپکو بہکایا نہ شیطان نے، اور نہ ہی کسی نے آپکو بد دین کا دوست دیکھ کر ویسا سمجھا۔اپنے کردار کو تو پیغمبروں نے بھی کبھی اپنی زبان سے مضبوط نہیں کہا، تو میں اور آپ تو پھر بہت گناہگار اور کمزور سے انسان ہیں، پیغمبروں نے ہمیشہ ہر گناہ سے بچ جانے پر اللہ کا ہی شکر ادا کیا کہ ( اے اللہ اگر تو نے ہمارا ساتھ نہ دیا ہوتا توہم ضرور بہک جاتے) دوستی کس سے کی جائے آیئے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں اللہ نے یہی فرمایا ہے

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے، میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

يَٰوَيْلَتَىٰ لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًۭا
Ya waylata laytanee lam attakhith fulanan khaleelan
وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا،
"Woe to me – alas, if only I had not taken that one for a friend."
(25 : 28)
لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ ٱلذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَآءَنِى ۗ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِلْإِنسَٰنِ خَذُولًۭا
Laqad adallanee AAani alththikri baAAda ith jaanee wakana alshshaytanu lilinsani khathoolan
بیشک اس نے مجھے بہکادیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے اور شیطان آدمی کو بے مدد چھوڑ دیتا ہے
"He indeed led me astray from the advice that had come to me"; and Satan deserts man, leaving him unaided.
(25 : 29)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ بِطَانَةًۭ مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًۭا وَدُّوا۟ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ ٱلْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
Ya ayyuha allatheena amanoo la tattakhithoo bitanatan min doonikum la yaloonakum khabalan waddoo ma AAanittum qad badati albaghdao min afwahihim wama tukhfee sudooruhum akbaru qad bayyanna lakumu alayati in kuntum taAAqiloona
اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو
O People who Believe! Do not share your secrets with others – they do all they can to ruin you; they desire the maximum harm for you; enmity has been revealed from their speech, and what they hide in their breasts is greater; we have explained the signs clearly to you, if you have intelligence.
(3 : 118)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply