logo-mini

بچوں کو چیز بانٹنے کا مقصد

بچوں کو چیز بانٹنے کا مقصد

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

!

میں بچپن سے ھی لوگوں کو چیز بانٹتے دیکھ کر حیران ھوتی ھوں یقیناْ آپ بھی اس چیز سے آگاہ ھوں گے اور اکثر یہ عمل دھراتے بھی ھوں گے سب سے پہلے میں آپ سب کو آگاہ کرتی چلوں کہ میرا مقصد یہاں کسی کو غلط کہنا یا کسی کی دل آزاری کرنا ھرگز نہیں صرف آپکی رائے کی طلبگار ھوں دل سے ایک بار ضرور سوچئے گا کہ اکثر و بیشتر جو چیز بانٹی جا تی ھے صدقہ وخیرات کے طور پر بانٹی جا تی ھے اور لینے والے بچوں میں سے اکثر بچے صدقہ یا خیرات کے مستحق نہیں ھوتے آپ سب جانتے ھیں کہ مستحق کون ھوتے ھیں یوں ایک طرف ھم مستحق لوگوں کا حق مارتے ھیں تو دوسری طرف غیر مستحق بچوں کو صدقہ و خیرات کی چیزیں کھلاتے ھیں، اگر آپ صدقہ و خیرات سے علاوہ کوئی چیز بانٹ بھی لیں تب تو ٹھیک بات ھے ھمسائے کے گھر میں بھی کچھ نہ کچھ ھدیہ کے طور پر بھیجتے رھا کریں, مگر صدقہ و خیر خیرات کو بچوں میں بانٹنا یا ھمسایوں کے گھر بھیجنا غلط  ھے. اسکے بجائے آپ اپنے ارد گرد حساس نظر رکھیں کہ کوئی مستحق یا تکلیف میں تو نہیں ,یہ عمل بھائی چارہ کہلاتا ھے جو ھر مسلم پر فرض ھے, اس عمل سے چاروں طرف پھیلی گداگری کم سے کم ھو گی کہ جو مجبور و مستحق لوگ ھیں وہ مجبور ھو کر گھر سے باھر نکلنے اور دوسروں کے آگے ھاتھ پھیلانے پر مجبور ھو جاتے ھیں ان میں کچھ ایسے مجبور لوگ بھی ھوتے ھیں جو گھر سے نکلنا یا کسی سےاپنی حاجت کہنا تک پسند نہیں کرتے مگر اس زمانے کی بڑھتی ھوئی بے حسی انکو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ھے جو راہِ حق میں خرچ کرنے والے پیسے کو بنا سوچے سمجھے کہیں بھی خرچ کر دیتے ھیں کبھی غیر مستحق بچوں میں تو کبھی مزاروں پر روپیہ خرچ کرکے, تو کبھی محفلِ میلاد کی صورت , کبھی گلیاں بازار سجا سجاکر. اللّہ کی راہ میں دینے والا مال سوچ کر خرچ چاھئے, یہ مستحق لوگوں کی ھمارے مال میں ھمیں اللّہ پاک کی طرف سے ملنے والی امانت ھوتی ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے،میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍۢ فَلِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌۭ
Yasaloonaka matha yunfiqoona qul ma anfaqtum min khayrin falilwalidayni waalaqrabeena waalyatama waalmasakeeni waibni alssabeeli wama tafAAaloo min khayrin fainna Allaha bihi AAaleemun
تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے
They ask you what they should spend; say, "Whatever you spend for good, is for parents and near relatives and orphans and the needy and the traveller"; and whatever good you do, indeed Allah knows it.
(2 : 215)
وَفِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ
Wafee amwalihim haqqun lilssaili waalmahroomi
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا
And the beggar and the destitute had a share in their wealth.
(51 : 19)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply