logo-mini

باپ دادا کی غلط رسومات کو آگے لے کر جانا

باپ دادا کی غلط رسومات کو آگے لے کر جانا

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!
دین اسلام قیامت تک کے لئے راه ہدایت کا سر چشمہ ہے، قرآن کی با برکت آیات اس وقت کے مسلمانوں یا کفّار کے لئے ہی نہیں نازل ہوئیں، بلکہ یہ تو ہر دور اور ہر جگہ کے لئے پہلے دن کیطرح جدیدیت لئے ہوئے ہیں۔ اگر ہم تہہ دل سے دیکھیں تو آج ہمارے رہن سہن، تقریبات اور خوشی غمی، مرگ و عیادت حتیٰ که لباس بھی اسلام اور قرآن کےاحکام سےکتنے منافی ہیں.اسلام میں بارات کو زیاده سے زیاده سادہ اور ولیمہ کو زیاده سے زیاده شاندار کرنے کا حکم ہے۔ یعنی زیاده سے زیاده کھانا کھلانے کا حکم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ہوتا کیا ہے. غریب سے غریب گھر بھی فضول رسومات پر پیسه خرچ کر لیتا ہے۔ بارات زیاده سے زیاده وسیع اور ولیمه بہت مختصر ہوتا جا رہا ہے. اگرکسی کی جیب اتنی اجازت دیتی بھی ہے تو وه تمام اخراجات فضول رسومات پر، بارات پر اور اسکی سجاوٹ پرخرچ کر دیے جاتے ہیں. ولیمہ پر حتیٰ کہ گلی محلے کے پورے گھر بھی مدعو نہیں ہوتے۔ جہیز  کے لئے لڑکی والوں کو اتنا تنگ کیا جاتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو بچنے نکلے ہوں۔ ایسے میں لڑکیاں اپنے گھر والوں کو بوجھ لگنے لگتی ہیں لیکن معاشرے کو کوئی پرواه نہیں۔ ہم اپنی زندگی ان غلط رسومات کی وجہ سے دن به دن تنگ کیےجا رہے ہیں۔ ورنه االله نے تو دین میں ذرا بھی تنگی نہیں رکھی۔ تنگی کر رہے ہیں تو ہم خود اپنے لئے۔ اور دوسری طرف یه سب کر کے ہم گناه گار بھی ہوتےہیں۔ اور اگرکسی کو ان غلط رسومات کو توڑنے کو کہو تو جواب وهى 1400 سال پہلے والا ملتا ہے جو کفار آپ صل االله علیه و سلم کو دیا کرتے تھے۔
“کہ کیا کریں؟ ہمارے باپ دادا سے رسم چلی آرہی ہے، ہماری خاندانی روایت ہے، ہمارے ماں باپ غلط تو نہیں ہوسکتے نہ؟ وہ مسلم تھے، نیک تھے، کیا کریں؟ نہ کریں گے تو معاشره باتیں کرے گا۔” 
بیشک وہ نیک تھے یا ہیں مگر غلطیاں تو ہر ایک سے ہو سکتی ہیں ،کیا ضروری ہے کہ جو انہوں نے نہیں کیا وہ ہم بھی نہ کریں، تو انہوں نے تو آج کے دور کے بہت سے کام نہیں کئے، وہ بھی آپ کر رہے ہیں نہ؟ پھر دین کی بات کے لئے ہی صرف یہ تاویلیں کیوں؟ کون ہے جو ہمیں روک رہا ہے؟

تو پھر کیسا اسلام اور کیسا خوف الہی؟

لوگوں کی تو پرواه ہے، مگر االله کی نہیں؟؟؟ 

اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تو باپ، دادا سے کہیں زیادہ ہے نہ؟ جو وہ نہیں کر پائے وہ آپ کریں اور اپنی اولاد کے لئے اچھی روایات یعنی اسلامی روایات چھوڑ کر جائیں، اچھی نصیحت اچھی پرورش جس کو یاد رکھا جائے، تاکہ وہ پیروی کرتے رہیں اور صدقہ جاریہ آپکے لئے بننتے رہیں، اور دنیا میں بھی فخر سے کہہ سکیں کہ ہمارے ماں یا باپ کی روایت ہے

جیسے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ اپنے کلام میں شامل کرلیا، جو رہتی دنیا کے لئے رقم ہو گئی، آخرت کے ساتھ ساتھ، اپنے بیٹے کو بلانے کا انداز بھی انکا سب سے منفرد قرآن نے بیان کیا ہے،

” يٰبُنَىَّ” یہ لفظ قرآن میں صرف لقمان علیہ السلام کے ساتھ ہی استعمال ہوا ہے

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے، میری اور آپکی زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضا عطا فرمائے۔اللھم یا رب اللعالمین
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

يَٰبُنَىَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأْمُرْ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱنْهَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ
Ya bunayya aqimi alssalata wamur bialmaAAroofi wainha AAani almunkari waisbir AAala ma asabaka inna thalika min AAazmi alomoori
اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں
"O my son! Keep the prayer established, and enjoin goodness and forbid from evil, and be patient upon the calamity that befalls you; indeed these are acts of great courage."
(31 : 17)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۗ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ
Waitha qeela lahumu ittabiAAoo ma anzala Allahu qaloo bal nattabiAAu ma alfayna AAalayhi abaana awalaw kana abaohum la yaAAqiloona shayan wala yahtadoona
اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت
And when it is said to them, "Follow what Allah has sent down", they say, "On the contrary, we shall follow what we found our forefathers upon"; What! Even if their forefathers had no intelligence, or guidance?!
(2 : 170)
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ
Innahum alfaw abaahum dalleena
بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا گمراہ پائے،
They had indeed found their forefathers astray.
(37 : 69)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ
Waitha qeela lahumu ittabiAAoo ma anzala Allahu qaloo bal nattabiAAu ma wajadna AAalayhi abaana awalaw kana alshshaytanu yadAAoohum ila AAathabi alssaAAeeri
اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو
And when it is said to them, "Follow what Allah has sent down", they say, "On the contrary, we shall only follow that upon which we found our forefathers"; even if the devil was calling them to the punishment of hell?
(31 : 21)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُوا۟ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ
Waitha qeela lahum taAAalaw ila ma anzala Allahu waila alrrasooli qaloo hasbuna ma wajadna AAalayhi abaana awalaw kana abaohum la yaAAlamoona shayan wala yahtadoona
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں
And when it is said to them, "Come towards what Allah has sent down and towards the Noble Messenger", they say, "Sufficient for us is what we found our forefathers upon"; even if their forefathers did not have knowledge nor had guidance?
(5 : 104)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply