logo-mini

اپنے لئے عذاب یا برائی مانگنا‎

اپنے لئے عذاب یا برائی مانگنا‎

السَـــــــلاَم وُ عَلَيــْــكُم و َرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَكـَـاتُه!

اپنے لئے عذاب مانگنے کی انسان کی پرانی عادت ہے یہ بہت جلد باز بے صبرا ناشکرا اور سب سے بڑا جھگڑالو ہے.
جس طرح حضرت لوط علیہ السلام کی سرکش قوم جس کے شہر میں اللّہ کی رحمت سے اتنی پاکیزہ و صاف ہوا تھی کہ اجنبی بھی شہر میں داخل ہو جاتا تو اسکے جسم سے تمام بیماریاں اور جراثیم ختم ہو جاتے یہاں تک کہ اسکے سر میں جوئیں بھی مر جاتی, تمام اجناس اور پھلوں کی افراط تھی, دنیا کی ہر نعمت انکو میسر تھی, کبھی انکے درمیان کوئی جھگڑا نہ تھا, مگر انھوں نے یکسانیت سے اوب کر اپنے لئے بیماریاں , تکلیفیں اور پریشانیاں, قحط اور لڑائی مانگیں , تو وہ برائیوں میں مبتلا ہوگئے, جس طرح بنی اسرائیل نے اپنے لئے من و سلویٰ کے خاتمہ کی دعا مانگی اسی طرح ہر پیغمبر کی قوم اپنے لئے عذاب مانگتی رہی,
جس طرح آج بھی عیسائی اور یہودی اپنے لئے دجال کے شر سے پناہ کی بجائے شدت سے اسکے آنے کی دعا مانگتے ہیں. استغفراللّہ
اسی طرح آج بھی ہم اللہ پاک سے اپنے لئے کسی بھی خواہش کی خاطر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اور کسی بھی چیز یا انسان کو اپنے لئے مانگنے میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں کہ باقی سب بھول جاتے ہیں، اور یہ تو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے اور کیا ضرر , زندگی کی مشکلات یا بیماریوں سے تنگ آکر اکثر لوگ استغفار کی بجائے اپنے لئے موت کی آرزو یا دعا کرتے ہیں, یہ بھول کر کہ زندگی اللّہ کی نعمت ہے, مایوسی کفر ہے اور موت مانگنا زحمت, اسی لئے ہمیں اپنے لئے دعا مانگتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے, سوچ سمجھ کر اور بہت یقین اور خلوص سے مانگی جانے والی دعا اللّہ پاک کو بہت عزیز ہے, ایسی دعائیں بہترین عبادت ہیں اللّہ کی ذات پاک اور محبت پر مکمل یقین اپنے اندر سموئے ہوئے کہ اللہ پاک تو ہی تو ہے جو ہمارا اچھا اور برا بہتر جانتا ہے ہم نہیں تو ہم تیری رضا میں راضی ہیں اگر یہ ہمارے حق میں بہتر ہے تو ہمیں عطا فرما ورنہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرما اور ہیں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما.
اپنے لئے بنا سوچے سمجھے مانگی جانے والی اکثر دعاؤں کو تو اللہ پاک اپنی رحمت سے بدل دیتا ہے یعنی انکے بدلے میں ہمیں کچھ بہتر عطا فرما دیتا ہے. اللّہ پاک دعا سے بہت خوش ہوتا ہے اس کو دعا بہت پسند ہے وہ دعاؤں کا بہت قبول فرمانے والا مہربان ہے.
دعاؤں میں بہت طاقت ہوتی ہے یہ اللہ پاک و برتر کے ساتھ ہمارا سب سے مضبوط اور پیارا رابطہ ہے, نماز سے بھی زیادہ بندہ دعا میں اپنے رب سے قریب ہوتا ہے, روح و جان کی تمام گہرائیوں کے ساتھ یکسو ہوکر, ارد گرد کو یکسر فراموش کرکے صرف ایک نقطہ پر اپنی ذات کو مرکوز کرکے عاجزی اور دل گرفتگی سے اپنے خالقِ حقیقی سے رابطہ استوار کرنے والے یہ لمحات سب سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں.
تو انکا ضائع کیسے گوارہ ہو, انکو اپنے دامن میں سمیٹ لینے میں دیری کیسی؟
انکو تو سب سے زیادہ سوچ سمجھ کر ادا کرنا چاہئے
اللّہ پاک و برتر سے دل کی گہرائیوں سے التجا ہے کہ ہم سب کو دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرمائے اور دوسروں میں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے. اللھم آمیٰن یا رب اللعالمیٰن

والسلام۔۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَيَدْعُ ٱلْإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًۭا
WayadAAu alinsanu bialshsharri duAAaahu bialkhayri wakana alinsanu AAajoolan
اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے
And man prays for evil like the way he seeks goodness; and man is very hasty.
(17 : 11)

 

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply