logo-mini

آسان زندگی

آسان زندگی

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
میں اکثرسوچتی ہوں کہ انسان کی فطرت بھی عجیب ہے کہ جہاں سے وفا نہ ملے وہیں سے تلاشتا رہیگا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ وفا تو اللہ کے ہاں ہی ہے۔انسان کو تو اپنی سانس کا بھی علم نہیں کہ کب ساتھ چھوڑ جائے؟ پھر سب وعدے اور دعوے دھرے رہ جائیں

اپنی زندگی کو ہم خود ہی مشکل بناتے ہیں، رشتوں سے نا انصافی کرکے کبھی تو کبھی رشتوں کو سر پر سوار کرکے

حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ  نے ہمیں سب بتادیا کہ خاص طور پر والدین کے ساتھ سب سے زیادہ احترام و فرمانبرداری کا حکم دیا، بیوی شوہر کی ہر جائز حکم میں اطاعت کرے، اور تمام فرائض ادا کرے اسی طرح شوہر پر بیوی کے لئے بھی تمام حقوق و فرائض وہی فرض ہیں جو بیوی پر ہیں،آخری وقت میں بھی اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر بھی اپنی بیوی سے احسن سلوک کی رحمت اللعالمیٰن ﷺ نے بار بار تاکید فرمائی، اور اپنی تمام بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کرکے طریقہ بھی بتایا،اسی طرح والدین بھی اپنی اولاد پر نہ بے جا سختی کریں نہ ہی انکو اگنور کریں کہ آپکے وقت ہر بچے اور رشتے کا لازمی حق ہے، ان کو غلط کام پر سپورٹس نہ کریں۔ باقی تمام رشتوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ خلوص اور آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و احترام سے پیش آئیں، کہ جتنا اچھا اخلاق ہوگا اتنا ہی بہترین انسان ہوگا،

یاد رکھیئے بلاوجہ چیخنا چلانا یا سخت لہجے میں بات کرنا، بدگمانی، الزام تراشی، یابدکلامی سے آپ اپنے ہی عزت و وقار اور پیار میں کمی کرتے ہیں، مختصراً یہ کہ اپنی طرف سے کسی کے ساتھ زیادتی یا حق تلفی نہ کریں مگر کسی بھی رشتے کو لے کر حد سے تجاوز نہ کریں

رشتو ں کو صرف اتنا ہی جیو جتنا کہ حکمِ الہٰی ہے۔

قرآن فرماتا ہے:
(مگر انسان تو خود کو مشقت میں ڈالنے کا عادی ہے۔)
وہ اللہ اور رسولِ اللہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے تو وفا نبھاتا نہیں ،اگر نبھا ئے بھی تو بہت کم ،اور کم نبھا کر بھی سمجھتا ہے کہ جی میں نے پوری وفا نبھاتا ہوں، مگرجو رشتے اول تو وفادار نہیں ہو سکتے،اگر وفا ان سے ملے گی تو بھی اتنی ہی، جتنی اللہ پاک نے مقدر میں لکھی ہوگی ،اور اس انسان کے دل میں اللہ پاک نے آپکے لئے رکھ دی ہوگی۔
کیونکہ قرآنِ پاک میں ارشادِ ربانی ہے کہ :
محبت دلوں میں ہم رکھتے ہیں۔
اللہ کے ساتھ اگر آپ وفا نبھاتے ہو تو بدلے میں ہمیشہ وفا اور دلی سکون ہی ملتا ہے ، اور مزید انعام کہ بدلے میں رشتوں میں بھی وفا ہی ملے گی۔
اگر اللہ کے ساتھ وفا نہیں نبھاؤ گے تو بدلے میں رشتوں میں بھی وفا ڈھونڈتے رہ جاؤ گے
مگر انسان ہمیشہ رشتوں اور دولت کے پیچھے جنونی ہو کر مشقت کرتا رہتا ہے۔
بلاآخر ایکدن تھک ہار کر جب احساس ہو أ تو اللہ یاد آیا۔
اللہ کی رحمت اور اپنے بندے کے ساتھ محبت کا عالم تو دیکھئے کہ اس پاک ذات نے پھر بھی اسکو اپنی پناہ میں لے لیا ،
اسکو اپنے ذکر سے روح کا اطمینان بخشا، اسکی تھکاوٹ دور فرما دی،
اور انسان کو اس وقت پچھتاوہ لاحق ہوأ کہ اسنے ساری زندگی بیکار کیوں گزار دی؟
حالانکہ یہ تو پروردِگارِ عالم کی امانت تھی،
تو کیوں نہ ہم وقت پر ہی سمجھ لیں کہ رزق اور محبت تو بس وہی ملے گی جو لکھی جا چکی ہے،تو ہم اپنی تمام محبتیں اللہ پاک اور اسکے پیارے حبیب محمد مصطفےٰمحمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیں؟
اسطرح ہم کسی کی حق تلفی بھی نہیں کر سکیں گے کیونکہ جو اللہ پاک سے محبت کریگا وہ کسی کا دل دکھانے کا، کسی کی حق تلفی کرنے کا ،یا کسی بھی برائی کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔
ہررشتے سے انصاف کریگا۔
کسقدر آسان ہے یہ زندگی۔تو کیوں ہم خود کو مشقت میں ڈالتے ہیں؟
کیوں اپنے اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں؟ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں تا کہ اللہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔
صرف اللہ تعالیٰ کا اور حبیب حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی کریں تو ہماری زندگی بھی آسان ہوگی اور دوسروں کی بھی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت میں آسانیاں اور اپنی رضا عطا فرمائے۔آمین یا رب اللعالمین

والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
Qul ya ayyuha alnnasu innee rasoolu Allahi ilaykum jameeAAan allathee lahu mulku alssamawati waalardi la ilaha illa huwa yuhyee wayumeetu faaminoo biAllahi warasoolihi alnnabiyyi alommiyyi allathee yuminu biAllahi wakalimatihi waittabiAAoohu laAAallakum tahtadoona
تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), "O people! Indeed I am, towards you all, the Noble Messenger of Allah – for Whom (Allah) only is the kingship of the heavens and the earth; there is none worthy of worship, except Him – giving life and giving death; therefore believe in Allah and His Noble Messenger, the Prophet who is untutored (except by Allah), who believes in Allah and His Words, and obey him (the Prophet) to attain guidance." (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
(7 : 158)

Asiya Ruby

لوحِ قلم کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین اورسوچ کومضبوط کرنا او معلومات پہنچانا ہے آپ کی سوچ ، کامیابی ، خوشی ، راحت اور سکون تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوچ تنکے کو بھی پہاڑ بنا سکتی ہے۔ وہی سوچ ایک پہاڑ کوتنکے کی .مانند کمزوربھی بنا سکتی ہے، یعنی آپ کی اپنی سوچ ہی ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آسیہ روبی The purpose of the "LoheQalam" is not only to encourage you but also to strengthen your beliefs and thinking and to convey information The biggest obstacle is access to your thinking, success, happiness, comfort, and tranquility. One thought can turn straw into a mountain. The same thinking can make you as weak as a mountain, that is, your own thinking is capable of making the impossible possible and the impossible possible


Leave a Comment

Leave a Reply