logo-mini

انسان کی حقیقت اور اہمیت

انسان کی حقیقت اور اہمیت

پلیز لائک اور سبسکرائب ضرور کریں

لسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اﷲ و برکاتہ

کہیں فرشتوں سے بلند ہے اس کا مقام
کہیں شیطان کو بھی مات دے یہ انساں

ایک انسان کیا پوری کائنات کی اہمیت بھی اﷲ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے جتنی بھی نہیں اس کے باوجود بھی اس رب العالمین نے اس انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اپنا خلیفہ بنا کر فرشتوں سے اوپر درجہ عطا فرما کر انسان میں اپنی طرف کی روح پھونکی، ایک مقصد حیات دیا با اختیار بنا کر سب سے زیادہ لاڈلی مخلوق بنایا اس سے زیادہ انسان کی اہمیت اور کیا ہوگی،

لیکن اس قدر قیمتی انسان کو بنایا کس سے؟

پہلے ہم قرآن کے مطابق جائزہ لیتے ہیں

ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا ۔سورہ الحجر

جس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے ۔۔ سورہ الطہٰ

ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا۔ سورہ المومنون

اب ان سے پوچھو ، ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ۔ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے ۔ سورہ الصافات

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو ۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو۔ سورہ غافر

تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے
سورہ یٰس

انسان کو ہم نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا۔ ۔سورہ الرحمٰن

اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا، پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ سورہ الانعام

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ،  پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کر دی ، اور ایک دوسری مدّت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے ۔ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو .. سورہ الانعام

اس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحا وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا۔۔ سورہ النحل

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا ، پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے, تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے ۔ سورہ الفرقان

تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ زندہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک جان کو۔ حقیقت یہ ہے کہ اﷲ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔۔ سورہ لقمان

پھراُس کو درست کیا اور اُس نے اِس میں اپنی روح پھونکی اور اُس نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ سورہ السجدہ

چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔۔۔جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ سورہ الطارق

ان آیات میں اﷲ تعالی نے انسانی زندگی کے کیمیائی اور حیاتیاتی ارتقا کے بارے میں بیان کردیا انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء کم و بیش سات مرحلوں سےگزر کر تکمیل پذیر ہوا جو یہ ہیں

تراب۔۔۔۔Inorganic matter

ماء۔۔۔۔ water

طین….Clay

طین لازب۔۔۔ absorbable adsorptive

صلصال من حماء مسنون….Old, physically and chemically altered mud…

صلصال کالفخار۔۔۔ dried and highly purified clay

سلالہ من طین۔۔۔۔ Extact of purified clay

قرآن میں انسان کے جسم کی تیاری میں مٹی, پانی اور گارے کا بھی ذکر آتا ہے اور نطفہ کا بھی، اور سلالہ کا بھی ،

ابو القاسم الحسین بن محمد کے مطابق سلالہ من طین سے مراد مٹی میں سے چنا ہوا وہ جوہر جسے اچھی طرح میلے پن سے پاک صاف کر دیا گیا ہو

رسول صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے ۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترتیب دی جاتی ہے ۔ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں ۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے اور ایک جاندار انسان بن جائے ۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے ۔ وہ بابرکت اﷲ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے

حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہینے گزر جاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑبن آتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے پھر بالکل ہی بوڑھا ہوجاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہوجاتا ہے ۔ واﷲ اعلم

صادق و مصدوق آنحضرت محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اﷲ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الہٰی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی ، اجل ، عمل ، اور نیک یا بد ، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آجاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہوجاتا ہے ۔ ( بخاری ومسلم وغیرہ ) حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہوجاتی ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے باتیں بیان کررہے تھے کہ ایک یہودی آگیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ آپ ﷺ سے پوچھا کہ “انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے ۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔ اس نے کہا ۔ آپ ﷺ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے ایک دفعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے بعد ایک قبر کے پاس سے گزرے آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہ سے دریافت فرمایا یہ کس کی قبر ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم فلاں حبشی کی ہے اس پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لاالہ اﷲ پڑھ کر فرمایا اسے اسکی زمین اور آسمان سے اس مٹی میں لایا گیا جس سے اس کی تخلیق کی گئی تھی

حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے

ریسرچ کے مطابق  انسانی جسم لاتعداد سیلز کا مجموعہ ہے جسے ڈی این اے یعنی DeoxyriboNucleic Acid کہا جاتا ہے، یہ سو ملی میٹر سے بھی چھوٹا ہوتا ہے،  مگراس کے ذریعے انسان کی پوری ہسٹری، اس کی نسل ہے، عادات، رنگ، بال، سب کچھ سکین ہوجاتا ہے، پھر اس کے اندر تمام بیماریوں یا کینسر نما چیزوں سے مقابلہ کرنے کی بھی قوت موجود ہوتی ہے، دنیا کے ہر ایک انسان کا ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہے فنگر پرنٹ کی طرح، آج انسان اتنی ترقی کے باوجود بھی اتنا سب کچھ کاپی کرنے یا لکھنے کے لئے کتنی جگہ گھیرے گا؟ مائیکرو سے مائیکرو چیز بھی اس قدر مائیکرو سیل میں اتنا ڈیٹا آج تک فیڈ نہیں کر پائی، نہ صدیوں تک امید ہے، ایک نہایت چھوٹے سے ذرے جو خوردبین سے نظر آتا ہے، اس ایک ڈی این اے کے اندر پوری کائنات بسی ہے

سائنس کے مطابق انسان پانی ، کاربن، آکسیجن اور کچھ مزید کیمیائی عناصر کو ملا کر بنایا گیا ہے، جو نہایت سستی چیزیں ہیں، لیکن اس قدر سستی چیزوں سے اس قدر قیمتی انسان بناکر اس کی قیمت بھی بتادی، حتیٰ کہ انسانی عضو گنوائے اور ان کی اہمیت بھی بتادی،کسی بھی عضو کی قیمت و اہمیت جاننے کے لیے اس عضو سے محروم انسان کا مشاہدہ کر لیں، ڈھیروں دولت بھی آپ کو وہ عضو قدرت کے جیسا مکمل عضو نہیں دلا سکتی، ایک عضو بھی کو قدرت کے برابر نہ بنا سکا ہے نہ بنا سکتا ہے، اسی طرح اوپن ہارٹ سرجری کا کس طرح سے سورۃ الم نشرح میں بتا رہا ہے کہ سینہ چاک کیا، اس کی تفسیر میں پوری تفصیل درج ہے کہ سینے کو کس طرح سے کاٹ کر دل کو نکال کر دھونا، اور  DNA اور فنگر پرنٹ کا بھی قرآن میں چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا،

دنیا کا بہترین سنگ تراش یا پینٹر یا بڑے سے بڑا سائنس دان بھی آج تک جسم کا ایک عضو تک نہیں بنا سکا، حتیٰ کہ دنیا بھر کی دولت خرچ کرکے بھی کسی مرتے ہوئے انسان کو بچا نہیں سکتا،مائیکل جیکسن کا واقعہ تو سب ہی جانتے ہیں، کہ اپنی زیادہ سے زیادہ لمبی زندگی کے لئے کس قدر انتظام کرکے بیٹھا تھا،مگر اس کو ایک پل کی بھی پہلت نہ مل سکی، ایسی عبرت ناک لاتعداد مثالیں ہر طرف موجود ہیں، جو سب ہی جانتے ہیں، اور ہارٹ سرجری یا کوئی بھی عضو کی تبدیلی سے انسان پہلے جیسا صحت مند دل یا زندگی بھی حاصل نہیں کرسکتا

اس کی مثال اﷲ نے اتنی پیاری دی ہے کہ عام انسان تو دور جن کو معبود یا خدا مانتے ہیں ان کے لئے فرمایا اﷲ نے کہ

لوگو ، ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو ۔ جن معبودوں کو تم اﷲ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے ۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔

سُبْحَانَ اللَّهِ

تو انسان اس پر کیوں غور نہیں کرتا؟ اﷲ تعالیٰ کی بڑائی کو دل سے تسلیم کرکے سرنگوں کیوں نہیں ہوجاتا اس کے سامنے؟ کیوں اس کی ذات سے ہی کہیں انکاری ہے، تو کہیں ایمان لا کر بھی اپنی من مانی کرتا پھرتا۔

اﷲ تعالیٰ انسان کو قرآن میں ایک طرف اپنا نائب یا خلیفہ بتاتا ہے، تو دوسری طرف اس کو خطا کا پتلا کہا

سب بڑا جھگڑالو اور سب سے بڑا ناشکرا بھی کہا

بہادر سے بہادر انسان بھی کسی دیوہیکل جانور کو سب سے خطرناک سمجھتا یے، مگر اﷲ تعالیٰ نے فرمادیا کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ تو اس بات کی مثال کے لئے آپ فروعون و نمرود، ہٹلر جیسے ان گنت انسان دیکھ لیں جنہوں نے دنیا پر کس قدر تباہی مچائی، وہ بھی ہوش و حواس میں، یعنی جانور اگر کوئی تبائی مچائے بھی تو وہ دماغی توازن کھو کر کرتا ہے، پھر
ایک طرف انسان کو اشرف المخلوقات بتا دیا تو دوسری طرف انسان کو خسارے میں کہا
ایک طرف انسان کو بااختیار بنادیا، کبھی وہ نمرود کی عمارت جو آج کے برج دبئی سے کہیں زیادہ بلند و بالا تھی، کہیں اہرام مصر تعمیر کرتا ہے، کہیں چاند پر پہنچ رہا ہے، کہیں پہاڑ سر کرتا ہے، تو کہیں اوپن ہارٹ سرجری، حتیٰ کہ اب پورا سر بھی ٹرانسپلانٹ کر رہا ہے، کہیں روبوٹ، اور مزید ان گنت ٹیکنالوجی بنا رہا ہے تو کہیں چاند اور دوسرے سیاروں پر پہنچ رہا ہے،مگر دلچسپ پات یہ ہے کہ جتنی زیادہ ترقی کر رہا ہے ﷲ اور قرآن کی حقانیت میں اضافہ ہورہا ہے، حیرت اور قدرت کی کاریگری سے دل مزید جھکتا جاتا ہے، سُبْحَانَ اللَّهِ

جب کہ انسان کی یعنی سائنس کی ریسرچ جو کئی سال تک بچوں کو پڑھائی جاتی ہے، وہ کچھ عرصہ بعد کسی دوسرے انسان کی ریسرچ پر غلط ثابت ہو جاتی ہے، جیسے پہلے ہم نے پڑھا سیارے نو ہیں مگر بعد میں یہ حقیقت بدل گئی،

مگر قرآن میں ایسی حقیقتیں یا سائنس ہے جو دن بہ دن زیادہ لوگوں سے اپنا لوہا منوا رہی ہے، اﷲ تعالیٰ نے سورہ الملک میں فرمادیا کہ نگاہ اٹھا کر دیکھو تو کوئی شگاف پاتے ہو پھر اٹھاؤ یعنی بار بار اﷲ تعالی غور کرنے کا حکم دیتا ہے کہ آسمان کی طرف دیکھو غور کرو اور اس کو جانو اس کو پہچانو، اسی طرح عاد و فرعون کی لاشیں اور آثار کا بھی قرآن پہلے سے تفصیل سے ذکر فرما چکا تھا

اﷲ کی چودہ سو سال پہلے کہی گئی کسی بات کو بھی آج تک جدید سے جدید سائنس بھی غلط نہیں کر سکتی، بلکہ اﷲ کی باتوں کو جدید سے جدید زمانہ و انسان مزید تسلیم کر رہا ہے

یہ اختیار اور پاور اس نے نہ فرشتوں کو دیا، نہ کسی دوسری مخلوق کو
اسی مخلوق کو دیا اور اتنی نافرمانیوں کے بعد بھی کبھی ہر سہولت فراہم کرتا رہے تو کبھی دنیا بھر کو طوفان نوح کے ذریعے نیست و نابود کردے
کیسی کیسی عجیب ہے قدرت کی کاریگری، ایک کرشمہ دیکھیں تو عقل دنگ رہ جائے، بنا ستون کے آسمان بنایا، ہزاروں سال سے ایستادہ ہے، ہوا میں بنا سہارے کے اڑنے والے کمزور پرندوں کو کون گرنے سے روکتا ہے؟
انسان خود جو کتنا بڑا عجوبہ ہے؟
مگر انسان ہے کہ معترف اور مزید احسان مند ہوکر مزید بندگی کی بجائے تڑاخ پڑاخ بولتا ہے، کوئی اپنے اس خالق حقیقی سے ہی انکاری ہو کر اس سے اس کی ہی ذات کے ثبوت طلب کرتا ہے؟؟ابوجہل جو مکے کا بیحد عقل والا اور قابل انسان مانا جاتا تھا، وہ بھی ایک بوسیدہ ہڈی لے کر بحث کرتا آیا کہ یہ کیسے زندہ ہوگا؟ اتنی سی عقل نہ آئی کہ پہلے بنانا زیادہ مشکل ہے یا ری سائیکل کرنا۔
کوئی ایمان لا کر بھی شرطیں رکھتا ہے کہ اگر ایسا ہو تو میں مان لوں گا، ویسا ہو تو مان لوں گا

حیرت ہے کہ شیطان بھی اﷲ سے انکاری نہ ہوا بلکہ آج بھی وہ اﷲ سے ڈرتا ہے، وہ انسان سے انکاری ہوا انسان کا دشمن بنا
اﷲ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ دیکھے، جانے اور جان کر دیکھ کر اختیار رکھ کر وہ اﷲ تعالٰی کے کرشمات اور قدرت کا مظاہرہ کرکے اﷲ کو مانے اور اس پر دل سے ایمان لائے اور اﷲ تعالیٰ کی بڑائی کو دل سے تسلیم کرے اس کی قربت اختیار کرے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی اہمیت و قیمت اگر فرشتوں سے بلند ہے تو پھر کیوں اتنا بے قدر اور حقیر کہا جارہا ہے؟
دراصل انسان کو اشرف المخلوقات ، اہم، اللہ کا خلیفہ، قیمتی اور انمول اﷲ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کے تحت اس کے اعمال بناتے ہیں، کبھی یہ اعمال اس کو پیغمبر یا خاص بنا دیتے ہیں تو کبھی یہی اعمال اسکو نمرود، فرعون یا ہٹلر

کبھی یہ اعمال عمر بن خطاب کو عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بنادے تو کبھی عمر بن ہشام سے ابو جہل بنادے

اتنا با اختیار ہوکر بھی اﷲ کی اپنے اندر روح کو پہچانتا ہے یا نہیں، اﷲ کی حقانیت کا اقرار کرتا ہے یا نہیں، اس کے کمالات اور قدرت پر کتنا یقین رکھتا ہے
اگر وہ اپنی ذات کو مانتا ہےجو اﷲ کی پیدا کردہ ہے، اﷲ تعالیٰ کی طرف کی اپنے وجود میں پھونکی گئی روح کو مانتا ہے، اپنے آپ کو حقیقت جانتا ہے اور مانتا ہے تو اس کو اس سے بہت زیادہ اعتراف محبت، ایمان و یقین اپنے خالق پر ہونا چاہیے،وہ بھی اپنی مرضی اور خوشی اور اختیارات کے ساتھ،

اپنے وجود کی صورت میں اﷲ کی بڑائی اور قدرت کو تسلیم کرے، قدر کرے، لیکن غرور کی نظر سے نہیں، اﷲ کی امانت و کرشمہ سمجھ کر۔

اللّہ کی سب سے لاڈلی مخلوق یہ انسان ہی ہے جس کواللہ توالیٰ کی اتنی محبت اتنا خاص بنا دیتی ہے،
شیطان ہر مخلوق و ملائکہ میں سے سب سے اہم اور لاڈلا ہونے کے باوجود صرف اس انسان کی اﷲ کے حضور اہمیت اور محبت دیکھر حسد کی آگ میں برباد ہو گیا.
اور ایک یہ ہم انسان ہی ہیں جو پھر بھی اپنی اہمیت سے آگاہ نہیں, اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ بنائے ہم نے یہ زمین و آسمان  کھیل کود کو۔

انسان کو اس کی ابتدا میں ہی اﷲ تعالیٰ نے سب سے ضروری سبق دے دیا، شیطان کے حسد و غرور کے ذریعے کہ اگر وہ اﷲ تعالیٰ کا سب سے لاڈلا، مقرب اور پیارا ہوکر بھی مردود بن سکتا ہے تو انسان ہمیشہ حسد و اپنی ذات پر غرور سے بچتا رہے، عاجز رہے، میں حیرت زدہ ہوں کہ کوئی بھی انسان غرور کیسے کر سکتا ہے جب اﷲ تعالیٰ کے حبیب پاک جناب محمد مصطفیٰ ﷺ نے اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہوکر مقام محمود ملنے کے باوجود، تمام پیغمبروں کا سردار کہنے کے باوجود، رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم بنا دینے کے باوجود، حوض کوثر کا تحفہ ملنے کے باوجود، فتح مکہ و لاتعداد جانثار و عاشق ہونے کے باوجود بھی کبھی ذرا سا بھی غرور نہ کیا بلکہ ہمیشہ انتہائی عاجزی اختیار کی۔ سُبْحَانَ اللَّهِ

مثال کے طور پر ہم کسی کو عزت یا احسان کریں، اور اگر وہ کم ظرف ہو تو بدلے میں ہماری ناحق تذلیل کرے گا، احسان فراموشی کرے تو ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے؟؟
کیا انسان بھی یہی کچھ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کرکے کم ظرفی نہیں دکھاتا؟
اﷲ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی عظمت کے دل سے قائل ہوں اس کا احسان مانیں ، اس کے مان کو اور اہمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں اس کو مایوس نہ کریں اس کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرکے، شیطان کا دعویٰ غلط ثابت کریں، تو ظاہر ہے وہ خوش ہوگا۔

یا اﷲ پاک! تمام مسلمانوں کو خاص طور پر مجھے اور میرے والدین کو، مجھے اور میرے بچوں کو دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرما، ہماری زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضائے کاملہ و دیدار پاک عطا فرما۔اللھم یا رب اللعالمین۔
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَٰٓئِفَ ٱلْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍۢ دَرَجَٰتٍۢ لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلْعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۢ
Wahuwa allathee jaAAalakum khalaifa alardi warafaAAa baAAdakum fawqa baAAdin darajatin liyabluwakum fee ma atakum inna rabbaka sareeAAu alAAiqabi wainnahu laghafoorun raheemun
اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
And it is He who made you caliphs (viceroys) in the earth and ranked some of you high above others, in order that He may test you with what He has bestowed upon you; indeed it does not take time for your Lord to mete out punishment; and indeed, surely, He is Oft Forgiving, Most Merciful.
(6 : 165)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلْكَرِيمِ
Ya ayyuha alinsanu ma gharraka birabbika alkareemi
اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے
O man! What has deceived you away from your Lord, the Most Beneficent?
(82 : 6)

ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
Allathee khalaqaka fasawwaka faAAadalaka
جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا پھر ہموار فرمایا
The One Who created you, then moulded you, then made you proper?
(82 : 7)

فِىٓ أَىِّ صُورَةٍۢ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ
Fee ayyi sooratin ma shaa rakkabaka
جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا
He moulded you into whatever shape He willed.
(82 : 8)
ثُمَّ خَلَقْنَا ٱلنُّطْفَةَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقْنَا ٱلْعَلَقَةَ مُضْغَةًۭ فَخَلَقْنَا ٱلْمُضْغَةَ عِظَٰمًۭا فَكَسَوْنَا ٱلْعِظَٰمَ لَحْمًۭا ثُمَّ أَنشَأْنَٰهُ خَلْقًا ءَاخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحْسَنُ ٱلْخَٰلِقِينَ
Thumma khalaqna alnnutfata AAalaqatan fakhalaqna alAAalaqata mudghatan fakhalaqna almudghata AAithaman fakasawna alAAithama lahman thumma anshanahu khalqan akhara fatabaraka Allahu ahsanu alkhaliqeena
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،
We then turned the drop of fluid into a clot of blood, then the clot into a small lump of flesh, then the lump into bones, then covered the bones with flesh; then developed it in a different mould; therefore Most Auspicious is Allah, the Best Creator.
(23 : 14)
وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَٰجًۭا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍۢ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ
WaAllahu khalaqakum min turabin thumma min nutfatin thumma jaAAalakum azwajan wama tahmilu min ontha wala tadaAAu illa biAAilmihi wama yuAAammaru min muAAammarin wala yunqasu min AAumurihi illa fee kitabin inna thalika AAala Allahi yaseerun
اور اللہ نے تمہیں بنایا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ کو آسان ہے
And Allah created you from clay, then a drop of liquid, then made you as couples; and no female conceives or gives birth except with His knowledge; and every aged being that is given the age, and every one whose life is kept short – all this is in a Book; indeed this is easy for Allah.
(35 : 11)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍۢ مِّنَ ٱلْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍۢ مُّخَلَّقَةٍۢ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍۢ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ فِى ٱلْأَرْحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنۢ بَعْدِ عِلْمٍۢ شَيْـًۭٔا ۚ وَتَرَى ٱلْأَرْضَ هَامِدَةًۭ فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْهَا ٱلْمَآءَ ٱهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنۢبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيجٍۢ
Ya ayyuha alnnasu in kuntum fee raybin mina albaAAthi fainna khalaqnakum min turabin thumma min nutfatin thumma min AAalaqatin thumma min mudghatin mukhallaqatin waghayri mukhallaqatin linubayyina lakum wanuqirru fee alarhami ma nashao ila ajalin musamman thumma nukhrijukum tiflan thumma litablughoo ashuddakum waminkum man yutawaffa waminkum man yuraddu ila arthali alAAumuri likayla yaAAlama min baAAdi AAilmin shayan watara alarda hamidatan faitha anzalna AAalayha almaa ihtazzat warabat waanbatat min kulli zawjin baheejin
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی
O people, if you doubt your revival on the Day of Resurrection, then ponder that We created you from dust, then from a drop of liquid, then from a clot, then from a piece of flesh formed and without form, so that We show you Our signs for you; and We keep whomever We want inside the mothers' wombs up to an appointed time, then extract you as infants, then in order that you reach your puberty; and among you is one who dies earlier, and among you is one put to the most abject age, so after having knowledge, knows nothing; and you see the earth desolate, then when We sent down water upon it, it freshened up and developed and produced beautiful pairs of all kinds.
(22 : 5)
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
Huwa allathee khalaqakum min turabin thumma min nutfatin thumma min AAalaqatin thumma yukhrijukum tiflan thumma litablughoo ashuddakum thumma litakoonoo shuyookhan waminkum man yutawaffa min qablu walitablughoo ajalan musamman walaAAallakum taAAqiloona
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو اور اس لیے کہ سمجھو
It is He Who created you from clay, then from a drop of liquid, then from a clot of blood, and then brings you forth as a child, then keeps you alive for you to reach adulthood and then to become old; and some among you pass away earlier, and for you to reach an appointed term, and so that you may understand.
(40 : 67)
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ
Walaqad khalaqna alinsana min salsalin min hamain masnoonin
اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی، ف۳۳)
Indeed We created man from sounding clay made out of black smelly mud.
(15 : 26)
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٍۢ مِّن طِينٍۢ
Walaqad khalaqna alinsana min sulalatin min teenin
اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی (انتخاب کی) مٹی سے بنایا،
Indeed We created man from a chosen soil.
(23 : 12)
مِنْهَا خَلَقْنَٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
Minha khalaqnakum wafeeha nuAAeedukum waminha nukhrijukum taratan okhra
ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے
From the earth We have created you, and to it We shall return you, and from it We shall raise you again.
(20 : 55)
فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ ۚ إِنَّا خَلَقْنَٰهُم مِّن طِينٍۢ لَّازِبٍۭ
Faistaftihim ahum ashaddu khalqan am man khalaqna inna khalaqnahum min teenin lazibin
تو ان سے پوچھو کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا
Therefore ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), "Are they a stronger creation, or are other things of our creation, (the angels, the heavens etc.)?" We have indeed created them from sticky clay.
(37 : 11)
فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
Fala yahzunka qawluhum inna naAAlamu ma yusirroona wama yuAAlinoona
تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve because of what they (the disbelievers) say; indeed We know what they conceal and what they disclose.
(36 : 76)
أَوَلَمْ يَرَ ٱلْإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقْنَٰهُ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ
Awalam yara alinsanu anna khalaqnahu min nutfatin faitha huwa khaseemun mubeenun
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے
And did not man see that We have created him from a drop of semen? Yet he is an open quarreller!
(36 : 77)
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
Huwa allathee khalaqakum min turabin thumma min nutfatin thumma min AAalaqatin thumma yukhrijukum tiflan thumma litablughoo ashuddakum thumma litakoonoo shuyookhan waminkum man yutawaffa min qablu walitablughoo ajalan musamman walaAAallakum taAAqiloona
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو اور اس لیے کہ سمجھو
It is He Who created you from clay, then from a drop of liquid, then from a clot of blood, and then brings you forth as a child, then keeps you alive for you to reach adulthood and then to become old; and some among you pass away earlier, and for you to reach an appointed term, and so that you may understand.
(40 : 67)
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ كَٱلْفَخَّارِ
Khalaqa alinsana min salsalin kaalfakhkhari
اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری
He created man from clay like that of earthenware.
(55 : 14)
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ فَمُسْتَقَرٌّۭ وَمُسْتَوْدَعٌۭ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَفْقَهُونَ
Wahuwa allathee anshaakum min nafsin wahidatin famustaqarrun wamustawdaAAun qad fassalna alayati liqawmin yafqahoona
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،
And it is He Who has created you from a single soul – then you have to stop over* in one place and stay entrusted** in another; indeed We have explained Our verses in detail for people of understanding. (* This earth. ** The grave.)
(6 : 98)
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن طِينٍۢ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلًۭا ۖ وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّى عِندَهُۥ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ
Huwa allathee khalaqakum min teenin thumma qada ajalan waajalun musamman AAindahu thumma antum tamtaroona
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا اور ایک مقررہ وعدہ اس کے یہاں ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو،
It is He Who has created you from clay, and then decreed a term for you; and it is a fixed promise before Him, yet you still doubt!
(6 : 2)
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ
Khalaqa alinsana min nutfatin faitha huwa khaseemun mubeenun
(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،
He created man from a drop of fluid, yet he is an open quarreller!
(16 : 4)
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ مِنَ ٱلْمَآءِ بَشَرًۭا فَجَعَلَهُۥ نَسَبًۭا وَصِهْرًۭا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًۭا
Wahuwa allathee khalaqa mina almai basharan fajaAAalahu nasaban wasihran wakana rabbuka qadeeran
اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی اور تمہارا رب قدرت والا ہے
And it is He Who created man from water, then appointed relatives and in-laws for him; and your Lord is All Able.
(25 : 54)
مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍۢ وَٰحِدَةٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ
Ma khalqukum wala baAAthukum illa kanafsin wahidatin inna Allaha sameeAAun baseerun
تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے
Creating you all and raising you from the dead are like that of one soul*; indeed Allah is All Hearing, All Knowing. (He can create you slowly or all at once).
(31 : 28)
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ
Thumma sawwahu wanafakha feehi min roohihi wajaAAala lakumu alssamAAa waalabsara waalafidata qaleelan ma tashkuroona
پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،
Then made him proper and blew into him a spirit from Him, and bestowed ears and eyes and hearts to you; very little thanks do you offer!
(32 : 9)
خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْأَنْعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ خَلْقًۭا مِّنۢ بَعْدِ خَلْقٍۢ فِى ظُلُمَٰتٍۢ ثَلَٰثٍۢ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ ٱلْمُلْكُ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ
Khalaqakum min nafsin wahidatin thumma jaAAala minha zawjaha waanzala lakum mina alanAAami thamaniyata azwajin yakhluqukum fee butooni ommahatikum khalqan min baAAdi khalqin fee thulumatin thalathin thalikumu Allahu rabbukum lahu almulku la ilaha illa huwa faanna tusrafoona
اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے تھے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح تین اندھیریوں میں یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو
It is He Who created you from a single being, and then from the same being created its spouse, and sent down for you eight pairs of animals; He creates you in your mothers' wombs, from one sort to another, in a triple darkness; such is Allah, your Lord – for Him only is the kingship; there is no God except Him; so where are you being turned away?
(39 : 6)
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ
Falyanthuri alinsanu mimma khuliqa
تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنا یا گیا
So man must consider from what he has been created.
(86 : 5)
خُلِقَ مِن مَّآءٍۢ دَافِقٍۢ
Khuliqa min main dafiqin
جَست کرتے (اوچھلتے ہوئے) پانی سے، ف۵)
Created from a gushing fluid.
(86 : 6)
يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِ
Yakhruju min bayni alssulbi waalttaraibi
جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے
That is issued from between the backs and the ribs.
(86 : 7)
وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
Walaqad khalaqnakum thumma sawwarnakum thumma qulna lilmalaikati osjudoo liadama fasajadoo illa ibleesa lam yakun mina alssajideena
اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،
And indeed We created you, then designed you and then ordered the angels, "Prostrate before Adam"; so they all prostrated, except Iblis (Satan); he did not become of those who prostrate.
(7 : 11)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌۭ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًۭا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًۭٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ
Ya ayyuha alnnasu duriba mathalun faistamiAAoo lahu inna allatheena tadAAoona min dooni Allahi lan yakhluqoo thubaban walawi ijtamaAAoo lahu wain yaslubuhumu alththubabu shayan la yastanqithoohu minhu daAAufa alttalibu waalmatloobu
اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا
O people, an example is being illustrated therefore listen to it attentively; "Those whom you worship besides Allah can never create a fly even if they all come together for it; and if a fly took away something from them, they cannot retrieve that from it; how weak are the seeker and the sought!"
(22 : 73)

Asiya Ruby

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply