logo-mini

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

 

#افلاک_سے_آتا_ہے_نالوں_کا_جواب_آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
“علامہ اقبال”
———-
#From_the_heavens_comes_an_answer_to_our_long_cries_at_last:
#The_heavens_break_their_silence_the_curtains_rise_at_last!
تشریح:
“افلاک یعنی آسمانوں سے نالوں یعنی فریاد ،یا گڑگڑا کر دعا ، رو رو کر دعا مانگنے والےکی دعا اللہ تعالیٰ لازم قبول فرماتا ہے
کیونکہ جب کوئی بندہ اللہ سے توبہ کرتا ہے یا صدق دل سے اللہ سے دعا مانگتا ہے تو اس کے اور رب کے درمیان کوئی حجاب اور پردہ قائم نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس پر رحمت فرماتے ہیں”
کیونکہ کائنات میں کوئی بھی اتنی شدت سے کسی کا منتظر نہیں ہوتا جتنی شدت سے اللہ اپنے بندوں کی توبہ کا انتظار فرماتا ہے.. آسیہ مشتاق (روبی)

Asiya Mushtaq

آؤ اللہ کی رسی کو مل کر تھام لیں Our all posts are researched carefully and designed by us. قرآن سمجھنے والے کبھی فرقہ نہیں بن سکتے اور فرقہ بننے والے کبھی قران نہیں سمجھ سکتے


Leave a Comment

Leave a Reply